Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا کثرتِ ضعف یا بیماری کے باعث وقت سے پہلے روزہ افطار کرنا جائز ہے؟

کیا کثرتِ ضعف یا بیماری کے باعث وقت سے پہلے روزہ افطار کرنا جائز ہے؟

موضوع: روزہ  |  عبادات  |  روزہ کی قضاء اور کفارہ   |  مریض کے روزہ کے احکام

سوال نمبر 605:
کیا کثرتِ ضعف یا بیماری کے باعث وقت سے پہلے روزہ افطار کرنا جائز ہے؟

جواب:

:  کثرتِ ضعف یا بیماری کے باعث جس میں یہ اندیشہ ہو کہ اگرروزہ باقی رکھا تو بیماری یا ضعف بڑھ جائے گا۔ یا یہ ڈر ہے کہ بیماری سے جلد آرام نہ آئے گا تو اس صورت میں روزہ وقت سے پہلے افطار کر لینا جائز ہے جس کی بعد ازاں قضا لازم ہوگی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments