بھائی اور بھابھی کے ترکہ کی تقسیم کیسے ہو گی؟


سوال نمبر:6006
السلام علیکم! محترم جناب بے اولاد بھائی، بھابھی کے انتقال کے بعد حقیقی بہن بھائیوں کا اور بھابھی کے بہن بھائیوں کا ترکہ میں کتنا حصہ ہے؟

  • سائل: محمد مزمل خانمقام: ساہیوال
  • تاریخ اشاعت: 20 جنوری 2022ء

زمرہ: تقسیمِ وراثت

جواب:

آپ نے سوال واضح نہیں کیا، اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ بھائی پہلے فوت ہوا یا بھابھی؟ اس لیے آپ کے سوال کا جواب مفروضہ کے طور پر ہی دیا جا سکتا ہے۔ فرض کریں اگر آپ کا بے اولاد بھائی پہلے فوت ہوا ہے تو اس کے ترکہ سے چوتھا حصہ اس کی بیوہ کو دیا جائے گا اور باقی بچنے والا مرحوم کے بھائی بہنوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ ہر بھائی کو دو حصے اور ہر بہن کو ایک حصہ دیا جائے گا۔ اس کے بر عکس آپ کی بے اولاد بھابھی پہلے فوت ہوئی ہے تو اس کے ترکہ سے شوہر کا آدھا حصہ اور باقی مرحومہ کے بھائی بہنوں میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ ہر بھائی کو دو حصے اور ہر بہن کو ایک حصہ دیا جائے گا۔ جیسا کہ میاں بیوی کے ترکہ کی تقسیم کے بارے میں قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.

’’اور تمہارے لیے اس (مال) کا آدھا حصہ ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں بشرطیکہ ان کی کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو تمہارے لیے ان کے ترکہ سے چوتھائی ہے (یہ بھی) اس وصیت (کے پورا کرنے) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد، اور تمہاری بیویوں کا تمہارے چھوڑے ہوئے (مال) میں سے چوتھا حصہ ہے بشرطیکہ تمہاری کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو ان کے لیے تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے تمہاری اس (مال) کی نسبت کی ہوئی وصیت (پوری کرنے) یا (تمہارے) قرض کی ادائیگی کے بعد۔‘‘

النساء، 4: 12

بے اولاد مرد یا عورت کے ترکہ کی تقسیم کے بارے میں قرآن مجید میں درج ذیل فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌo

’’لوگ آپ سے فتویٰ (یعنی شرعی حکم) دریافت کرتے ہیں۔ فرما دیجیے کہ اﷲ تمہیں (بغیر اولاد اور بغیر والدین کے فوت ہونے والے) کلالہ (کی وراثت) کے بارے میں یہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص فوت ہو جائے جو بے اولاد ہو مگر اس کی ایک بہن ہو تو اس کے لیے اس (مال) کا آدھا (حصہ) ہے جو اس نے چھوڑا ہے، اور (اگر اس کے برعکس بہن کلالہ ہو تو اس کے مرنے کی صورت میں اس کا) بھائی اس (بہن) کا وارث (کامل) ہوگا اگر اس (بہن) کی کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر (کلالہ بھائی کی موت پر) دو (بہنیں وارث) ہوں تو ان کے لیے اس (مال) کا دو تہائی (حصہ) ہے جو اس نے چھوڑا ہے، اور اگر (بصورتِ کلالہ مرحوم کے) چند بھائی بہن مرد (بھی) اور عورتیں (بھی وارث) ہوں تو پھر (ہر) ایک مرد کا (حصہ) دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہوگا۔ (یہ احکام) اﷲ تمہارے لیے کھول کر بیان فرما رہا ہے تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔‘‘

النساء، 4: 176

مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ آپ کے مرحوم بھائی کے ترکہ سے آپ لوگوں کو حصہ ملے گا اور آپ کی مرحومہ بھابھی کے ترکہ سے اس کے بھائی بہنوں کو حصہ ملے گا۔ حصوں کی وضاحت اوپر کر دی گئی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری