روزوں کی قضا پوری کرنے کے بارے میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا کیا معمول تھا؟

سوال نمبر:597
روزوں کی قضا پوری کرنے کے بارے میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا کیا معمول تھا؟

  • تاریخ اشاعت: 12 فروری 2011ء

زمرہ: عبادات  |  روزہ  |  روزہ کی قضاء اور کفارہ

جواب:

:  روزوں کی قضا پوری کرنے کے بارے میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا معمول تھا کہ رمضان المبارک کے وہ روزے جو شرعی عذر کی بنا پر رہ جاتے تھے، انہیں علی الحساب ماہ شعبان میں رکھ لیتی تھیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس مہینے کثرت سے روزے رکھتے تھے۔ اس سلسلے میں حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت ہے :

’’میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اگر مجھ پر رمضان کے روزوں کی قضا واجب ہوتی تو میں انہیں شعبان کے علاوہ قضا نہ کر سکتی۔‘‘

 مسلم، الصحيح، کتاب الصيام، باب قضاء رمضان فی شعبان، 2 : 802، رقم :  1146

قضا کردہ روزوں کے بارے میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کو ہرگز گوارہ نہ تھا کہ روزوں کی قضا کی وجہ سے ان کے شوہر نامدار کی خدمت میں کوئی کوتاہی یا کمی واقع ہو۔

اس روایت سے فقہاء نے اس مسئلہ کا استنباط کیا ہے کہ کوئی عورت اپنے خاوند کی مرضی کے بغیر نفلی روزہ نہیں رکھ سکتی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟