کیا فوت شدگان پر بھیجا گیا سلام ان کو پہنچتا ہے؟

سوال نمبر:5928
محترم میری ایک عادت ہے کہ دعا میں جب میں اپنے مرحوم رشتہِ داروں کے لیے دعا مغفرت کرتا ہوں تو کہتا ہوں کہ اے اللہ ان سب تک میرا سلام پہنچا دے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ عمل جائز ہے؟ اور کیا میرا سلام ان تک پہنچتا ہوگا؟ براہ کرم رہنمائی فرمایئے

  • سائل: اعتزاز حسینمقام: میانوالی
  • تاریخ اشاعت: 01 دسمبر 2021ء

زمرہ: ایصال ثواب

جواب:

ایک طویل حدیث مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تمہارا رب تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم جا کر اہل بقیع کے لیے بخشش کی دعا کرو! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے دریافت کیا؛ یا رسول اللہ! کس طرح دعا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا جا کر کہنا:

السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَيَرْحَمُ اللهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ.

’’مسلمانوں اور مومنوں کے گھر والوں پر سلام، جو ہم سے پہلے جا چکے ہیں اور جو بعد میں جانے والے ہیں، سب پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور اللہ نے چاہا ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں۔‘‘

مسلم، الصحيح، كتاب الجنائز، باب ما يقال عند دخول القبور والدعاء لأهلها، 2: 670، الرقم: 974، بيروت: دار إحياء التراث العربي

اس حدیث مبارکہ میں اہل بقیع کے لیے دعا کرنے کا جو طریقہ خود نبی کریم ﷺ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو سیکھایا اس میں سلام بھیجا گیا ہے اور مغفرت کی دعا کی گئی ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالتمآب ﷺ میں عرض کیا: ہم اپنے مُردوں کے لئے دُعا کرتے اور اُن کی طرف سے صَدَقہ اور حج کرتے ہیں، کیا اُنہیں اِس کا ثَواب پہنچتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

اِنَّهٗ لَيَصِلُ اِلَيۡهِمۡ وَيَفۡرَحُوۡنَ بِهٖ كَمَا يَفۡرَحُ اَحَدُكُمۡ بِالۡهَدِيَّةِ.

اُنہیں اِس کا ثَواب پہنچتا ہے اور وہ اِس سے ایسے ہی خوش ہوتے ہیں جیسے تم میں سے کوئی شخص تحفے سے خوش ہوتا ہے۔

(عمدۃ القاری، 6: 305)

ایک اور روایت بھی فوت شدگان پر سلام بھیجنے کی دلیل ہے جو یہ ہے:

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ المَدِينَةِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ القُبُورِ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ، أَنْتُمْ سَلَفُنَا، وَنَحْنُ بِالأَثَرِ.

’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ کی قبروں کے پاس سے گزرے تو ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے اہل قبور! تمہیں سلام ہو، اللہ تعالیٰ تمہاری اور ہماری مغفرت فرمائے تم ہم سے پہلے پہنچے اور ہم تمہارے پیچھے پیچھے آنے والے ہیں۔‘‘

الترمذي، السنن، كتاب الجنائز، باب ما يقول الرجل إذا دخل المقابر، 3: 369، الرقم: 1053، بيروت: دار إحياء التراث العربي

مذکورہ بالا تصریحات کے مطابق مرحومین کو سلام کرنا اور ان کی بخشش و مغفرت کی دعا کرنا رسول اللہ ﷺ کا عملِ مبارک ہے اور شرعاً جائز بھی ہے۔ رہا یہ سوال کہ فوت شدگان پر بھیجا گیا سلام اُن تک پہنچتا ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب ہے یقیناً پہنچتا ہے۔ اگر فوت شدگان تک سلام نہ پہنچتا ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اہلِ قبور کو مخاطب کر کے انہیں سلام نہ کرتے اور نہ ایسا کرنے کا حکم دیتے، کیونکہ اِس صورت میں یہ ایک بیکار عمل ہوتا اور شارع علیہ السلام سے کسی بیکار عمل کا صادر ہونا محال ہے۔ اس لیے مرحومین کے لیئے کی گئی دعائے مغفرت، ایصالِ ثواب اور ان پر بھیجا گیا سلام ان تک پہنچتا بھی ہے اور ان کو فائدہ بھی دیتا ہے۔

ایصالِ ثواب کے موضوع پر تفصیلی مطالعہ کے لئے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی تصنیف ’ایصال ثواب اور اس کی شرعی حیثیت‘ ملاحظہ کیجیے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری