Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - سحری کھانے میں تاخیر اور افطار کرنے میں جلدی کا حکم کیوں دیا گیا؟

سحری کھانے میں تاخیر اور افطار کرنے میں جلدی کا حکم کیوں دیا گیا؟

موضوع: روزہ  |  عبادات  |  سحر و افطار کے احکام

سوال نمبر 592:
سحری کھانے میں تاخیر اور افطار کرنے میں جلدی کا حکم کیوں دیا گیا؟

جواب:

:  سحری میں تاخیر اور افطاری جلدی کرنا سنت مؤکدہ ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمر بھر یہ معمول رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سحری میں تاخیر اور افطاری جلدی فرماتے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم رضی اللہ عنہلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

إِنَّا مَعْشَرَ الأنْبِيَاءِ أُمِرْنَا أَنْ نُؤَخِّرَ سُحُوْرَنَا، وَنُعَجِّلَ فِطْرَنَ.

 ابن حبان، الصحيح، 5 :  67، رقم :  1770

’’ہم گروہِ انبیاء علیہم السلام کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم سحری تاخیر سے اور افطار جلدی سے کریں۔‘‘

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ.

 مسلم، الصحيح، کتاب الصيام، باب فضل السحور وتأکيد استحبابه، 2 :  771، رقم :  1098

’’میری امت کے لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک وہ روزہ جلد افطار کرتے رہیں گے۔‘‘

کوئی شخص سحری میں اتنی تاخیر کر بیٹھے کہ اذان شروع ہو جائے تو اس کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

إِذَا سَمِعَ أَحَدَکُمْ النِّدَاءَ، وَالْاِنَاءُ عَلَی يدِه فَلَايضَعْه حَتَّی يقْضِيَ حَاجَتَه مِنْه.

 1. ابو داود،السنن، کتاب الصوم، باب فی الرجل يسمع النداء، 2 :  292، رقم : 22350

2 .حاکم، المستدرک علی الصيحين، 1 :  323، رقم : 740

’’جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اپنی ضروریات پوری کیے بغیر اسے نہ رکھے۔‘‘

مندرجہ بالا احادیث مبارکہ کی روشنی میں واضح ہوا کہ سحری میں تاخیر اور افطاری میں جلدی کرنا سنت ہے۔ سحری میں تاخیر اور افطاری جلدی کرنے کا حکم اس لئے دیا گیا کہ اس میں کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ روحانی فیوض و برکات سے قطع نظر سحری دن میں روزے کی تقویت کا باعث بنتی ہے اور انسان بھوک پیاس کی شدت سے محفوظ رہتی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُمت کو تلقین فرمائی ہے کہ سحری ضرور کیا کرو خواہ پانی کا ایک گھونٹ، کھجور کا ایک ٹکڑا یا منقی کے چند دانے ہی کیوں نہ ہو۔

 طبرانی، مسند الشاميين، 1 :  32، رقم :  16

اسی طرح افطاری جلد کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اس طرزِ افطاری سے یہود و نصاریٰ کی مخالفت مقصود ہے کیونکہ یہود و نصاریٰ روزہ تاخیر سے افطار کرتے ہیں۔ ستاروں کے ظاہر ہونے تک انتظار کرتے ہیں جس سے نجوم پرستی کا شائبہ پیدا ہوتا ہے۔ جب تک امتِ مسلمہ افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتی رہے گی اس وقت تک سنت کی پابندی اور حدودِ شرع کی نگرانی کی وجہ سے خیریت اور بھلائی پر قائم رہے گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments