اگر بیوی علیحدگی کی خواہاں ہو تو شوہر کیلئے کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:5911
السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ میں نے اپنی بیوی سے پوچھے بغیر نکاح کیا ہے، اب وہ کیس کرنا چاہ رہی ہے، اس میں میرے لئے کیا حکم ہے؟

  • سائل: ذوالفقار علیمقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 17 دسمبر 2020ء

زمرہ: زوجین کے حقوق و فرائض

جواب:

پاکستانی قانون کے مطابق دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی اجازت لینا ضروری ہے، آپ نے پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر نکاح کر کے قانوناً جرم کیا ہے۔ اگر وہ عدالت میں اس معاملے کا مقدمہ کرتی ہے تو آپ کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اگر آپ کی پہلی بیوی ازدواجی حیثیت سے آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو شرعاً و قانوناً اسے علیحدگی کا مطالبہ کرنے کا حق ہے۔ قرآنِ مجید نے ازدواجی زندگی کے حوالے سے جو احکام بیان فرمائے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اچھے انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ رہو اور اگر اچھے طریقے ساتھ رہنا ممکن نہیں تو بھلائی کے ساتھ علیحدہ ہو جاؤ۔

اولاً آپ پہلی بیوی کو منانے کی کوشش کریں اور اس کے ازدواجی حقوق کی ادائیگی کو یقینی بنائیں، اگر اس کے باوجود وہ علیحدہ کی خواہاں ہے تو معاملہ عدالتوں میں لے جانے کی بجائے خاندان کے افراد کو بلاکر حل کرلیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟