جس ملک میں اہانتِ رسول ہوئی ہے اسکے شہریوں سے کاروبار کا کیا حکم ہے؟


سوال نمبر:5907
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاۃ! جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ فرانس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی گئی ہے۔ اِس پر ہمیں اور پوری اُمت کے لئے افسوس کی بات ھے۔ اب مسئلہ یہ ھے کہ ہم یورپ کے کئی ممالک کے ساتھ کاروباری تجارت کرتے ہیں، نیز کچھ دن قبل ہمیں فرانس سے آفر آئی کاروبار کے لئے کہ ہم مال کی فروختگی آپ سے کرنا چاھتے ہیں، آپ ہمیں مال بھیچ دیا کریں۔ کیا اِس گستاخانہ سلوک کو مدِ نظر دیکھتے ہوئے اِن سے لین دین کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اِن سے لین دین کرنے پر ہمیں کچھ گناہ ہے یا نہیں؟ آپ کے جواب کا منتظر

  • سائل: محمد زیدمقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 17 دسمبر 2020ء

زمرہ: حرمت دین و ناموس رسالت ﷺ

جواب:

رسول اللہ ﷺ کی ذات والا صفات‘ ایمان کی بنیاد اور ایمان کا محور و مرکز ہے۔ آپ ﷺ کی ناموس کا تقدس و تحفظ ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی اہانت ناقابلِ برداشت عمل ہے، کوئی بھی صاحبِ ایمان ناموسِ رسالت ﷺ پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ حالیہ برسوں میں مغربی دنیا میں ایسے پے در پے واقعات ہو رہے جن میں رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس کا معاذ اللہ تمسخر اڑانے اور اہانت کرنے کی قبیح حرکات کی جا رہی ہیں اور انہیں آزادئ اظہارِ رائے کے نام پر تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے مغربی دنیا کو عقل و نقل اور دلیل و استدلال کے ذریعے اس معاملے کے حساسیت سے آگاہ کیا جائے اور ازادئ اظہارِ رائے کی عالمگیر حدود و قیود کا تعین کرنے کے لیے عالمی اداروں میں آواز اٹھائی جائے۔ مقاطعہ (boycott) کرنے سے بلاشبہ مرتکبِ اہانت سے نفرت اور بیزاری کا اظہار ہو جاتا ہے اور اجتماعی بائیکاٹ سے کسی حد تک معاشی زک بھی پہنچتا ہے مگر محض معاشی یا سفارتی مقاطعہ اس مسئلہ کا پائیدار حل نہیں ہے۔ جب تک اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل نہیں کیا جاتا تب تک کہیں نہ کہیں سے ایسی قبیح حرکات ہوتی رہیں گی اور امت مسلمہ کو اس میں الجھایا جاتا رہے گا۔

ایسے میں ضرورت ہے اس امر کی ہے امت مسلمہ اجتماعی غیرت و حمیت کا ثبوت دے اور اس طرح کے دلخراش واقعات کو روکنے کے لئے سنجیدہ اور مضبوط لائحہ عمل تیار کرے۔ اقوام متحدہ کے دفاتر میں اپنا احتجاج درج کروائیں، اور اپنے جذبات اور مطالبات کو یاداشتوں کی شکل میں پیش کریں، مسلم ممالک کی حکومتیں فرانس پر دباؤ ڈالیں۔ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کے حل کے لیے بھی عالمی سطح کی کوششیں درکار ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری ہے سیرت رسول کا مطالعہ کریں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے عطر بیز پھولوں سے اپنے کردار کے بام و در کو سجا ئیں، اسوہ نبوی کے تابندہ نقوش کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کریں، کثرت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھیں۔

جب کسی ملک کا کوئی شہری ایسی غلیظ حرکت کا مرتکب ہوتا ہے تو ریاستی سطح پر اس کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے جس کے بعد متعلقہ ملک کی حکومت پر دباؤ ڈال کر ایسے افراد کو روکنے اور سزا دلوانے کی کوشش ہونی چاہیے۔ اگر آپ توہینِ رسالت کے مرتکب شخص کے ساتھ براہ راست کوئی لین دین کر رہے ہیں تو فوری طور روک دیں۔ تاہم کسی ایک شخص یا چند اشخاص کی قبیح حرکت کی وجہ سے اس ملک کے تمام شہریوں کے ساتھ لین دین روکنے کی ممانعت نہیں ہے نہ اس لین دین پر کوئی گناہ ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری