بوقتِ نکاح لڑکا لڑکی ایک مجلس میں اور گواہان فون کال پر ہوں تو نکاح کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:5895
السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! حضرت میرا سوال یہ ہے کہ اگر لڑکا، لڑکی اور گواہان ایک ہی مجلس میں موجود ہوں اور نکاح پڑھانے والا موبائل فون پر شریکِ مجلس ہو تو کیا نکاح ہو جائے گا؟ اسی سوال کی دوسری صورت یہ ہو کہ لڑکا اور لڑکی دونوں ایک مجلس میں ہوں لیکن گواہان اور نکاح خواں الگ مجلس میں موجود اور موبائل فون سے شاملِ مجلس ہوں تو کیا ایسی صورت میں نکاح ہو جائے گا؟

  • سائل: تصور حسینمقام: بہاولپور
  • تاریخ اشاعت: 20 جنوری 2021ء

زمرہ: نکاح

جواب:

سائل کے سوال کی پہلی صورت کا جواب یہ ہے کہ جب لڑکا اور لڑکی عاقل و بالغ ہیں اور دو عاقل و بالغ مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو خواتین گواہوں کی موجودگی میں حق مہر کے عوض ایجاب و قبول کرتے ہیں تو نکاح منعقد ہو جاتا ہے، خواہ خطبہ نکاح فون پر پڑھا جائے یا حاضرین میں سے کوئی پڑھے۔

مگر دوسری صورت کہ جس میں لڑکا اور لڑکی الگ مجلس میں ہیں اور گواہان اور نکاح خوان فون پر ہیں، اس صورت میں نکاح منعقد نہیں ہوتا کیونکہ اتحادِ مجلس کی شرط پوری نہیں ہو رہی۔ مجلسِ نکاح میں گواہان کی موجودگی بنیادی شرط ہے۔ دورِ حاضر کے علماء نے بذریعہ فون یا ویڈیو کانفرنس نکاح جائز قرار دیا ہے مگر اس کے لیے شرائط و ضوابط ہیں جن کو ملحوظ رکھنا لازم ہے۔ ٹیلی فون پر نکاح کی شرائط و ضوابط کے مطالعہ کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پر نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟