اسلام میں ایمان بالرسالت کا کیا تصور ہے؟


سوال نمبر:5859
السلام علیکم! رسالت پر ایمان سے کیا مراد ہے؟

  • سائل: فصیحمقام: کرک
  • تاریخ اشاعت: 03 ستمبر 2020ء

زمرہ: ایمان بالرسل

جواب:

اسلام نے دیگر مذاہب کے برعکس ’’رسالت‘‘ کا ایک ٹھوس اور جامع تصور پیش کیا، جس نے نہ تو رسالت کو بڑھا کر خدا یا خدا کی اولاد کے درجے پر پہنچایا اور نہ گھٹا کر عام انسانوں کے برابر قرار دیا۔ دینِ مبین نے رسالت و نبوت کا ایسا جامع، کامل اوربے مثل نظریہ پیش کیا جس میں نورِ حق کی صداقت اور چمک دمک واضح طور پر دکھائی دیتی ہے ۔

قرآنِ حکیم ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے ہر خطے اور نسل انسانی کے ہر طبقے کی طرف، اپنے رسول اور پیغمبر بھیجے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَافِیْھَا نَذِیْرٌ.

اور کوئی امت نہیں مگر اس میں کوئی نہ کوئی آگاہ کرنے والا ضرور گزر چکا ہے۔

(فاطر، 35: 24)

قرآن کریم کی یہ آیت رسالت کے عام ہونے کو بیان کرتی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ کرہ ارض کا ہر وہ خطہ جہاں چند انسانوں نے ملکر کوئی معاشرہ تشکیل دیا ہے، کسی دور میں اللہ کی طرف سے آنے والے انبیاء کے فیضان سے خالی نہیں رہا۔

بالآخر قیامت تک کے تمام ادوار کے لئے خاتم الانبیاء سرورِ کون و مکان، فخرِ موجودات ﷺ کو مبعوث کر دیا گیا۔ اور وہ دنیا کے سب سے عظیم انقلاب اور سب سے بڑے دین کے بانی قرار پائے۔ ارشادِ خداوندی ہے:

تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْراًO

وہ( خدائے عزوجل) بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے برگزیرہ بندے پر قرآن نازل کیا تاکہ وہ اہلِ عالم کو ڈر سنائے۔

(الفرقان، 25: 1)

خدا تعالیٰ نے آپ کے دامن کو عالمین کی ہدایت کے سامان کے ساتھ ساتھ تمام جہانوں کی رحمتوں سے بھی بھردیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

وَمَآ اَرْسَلْنَاکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَO

اور (اے محبوب) ہم نے آپ کو تمام عالمین کے لئے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے۔

(الانبیاء، 21: 107)

اب جس طرح تمام جہانوں کا پروردگار ایک ہی ہے اسی طرح کل کائنات ایک نبی و رسول خاتم النبین ﷺ کے پرچمِ رحمت تلے جمع کر دی گئی۔ اور یوں توحیدِ باری کے ساتھ ساتھ توحید و رسالت کا تصور بھی اپنے کمال کو پہنچ گیا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔