رفاعی امور پر زکوٰۃ کی رقوم خرچ کرتے ہوئے تملیک کی شرط کا کیا حکم ہوگا؟

سوال نمبر:5835
السلام علیکم مفتی صاحب! عام طور پر علماء ادائیگئ زکوٰۃ کے لیے تملیک شخصی کو لازم قرار دیتے ہیں۔ اس لیے ان کا فتویٰ یہ ہے کہ حیلۂ تملیک کے بغیر رفاہِ عامہ کے اداروں مثلاً مدارس اور شفا خانوں وغیرہ کے اجتماعی مصارف میں زکوٰۃ دینا صحیح نہیں۔ اس پر کچھ اشکالات و سوالات پیدا ہوتے ہیں جن میں سے ایک بنیادی اعتراض یہ ہے کہ تملیک کی جو شرط لگائی جاتی ہے اور اس کی بنا پر جو فروعی احکام بیان کیے جاتے ہیں، وہ صرف اسی صورت میں قابل عمل ہیں جب کہ لوگ انفرادی طور پر زکوٰۃ نکال کر انفرادی طور پر ہی اسے خرچ کریں۔ لیکن اجتماعی طورپر مثلاً اسلامی حکومت کے ذریعے سے اگر زکوٰۃ کی وصولی و صرف کا انتظام کیا جائے تو شرط تملیک اپنے جزئی احکام کے ساتھ ایک دن بھی نہیں چل سکتی۔ کیونکہ زکوٰۃ کے نظام کو وسیع اور مستحکم کرتے ہوئے زکوٰۃ کی تقسیم و تنظیم، حمل و نقل اور متعلقہ سازو سامان کی فراہمی میں بےشمار شکلیں ایسی پیدا ہوں گی جن میں شرط تملیک کی پابندی لا محالہ ہوگی۔ ایسی صورت میں آپ کی کیا رائے ہے؟

  • سائل: خاقان ثناءاللہمقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 28 اگست 2020ء

زمرہ: زکوۃ

جواب:

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے مصارف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌo

بے شک صدقات (زکوٰۃ) محض غریبوں اور محتاجوں اور ان کی وصولی پر مقرر کیے گئے کارکنوں اور ایسے لوگوں کے لیے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو اور (مزید یہ کہ) انسانی گردنوں کو (غلامی کی زندگی سے) آزاد کرانے میں اور قرضداروں کے بوجھ اتارنے میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں پر (زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے)۔ یہ (سب) اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔

التوبة، 9: 60

اس آیت مبارکہ میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان کئے گئے ہیں، ان میں سے ساتویں مصرف {وَفِيْ سَبِيْلِ ﷲِ} کا مفہوم بہت وسیع ہے یعنی اس مصرف کے تحت زکوٰۃ کی رقم بہت سے نیک امور میں خرچ کی جاسکتی ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں امام فخر الدین الرازی لکھتے ہیں:

أنَّ ظَاهِرَ اللَّفْظِ في قَوْلِهِ: ﴿وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ لَا يُوجِبُ القَصْرَ عَلى كُلِّ الغُزَاةِ، فَلِهَذا المَعْنَى نَقَلَ القَفّالُ في تَفْسِيرِهِ عَنْ بَعْضِ الفُقَهاءِ: أنَّهم أجازُوا صَرْفَ الصَّدَقاتِ إلى جَمِيعِ وُجُوهِ الخَيْرِ؛ مِن تَكْفِينِ المَوْتى، وَبِناءِ الحُصُونِ، وَعِمارَةِ المَساجِدِ؛ لِأنَّ قَوْلَهُ: ﴿وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ عَامٌّ في الكُلِّ.

ارشادِ باری تعالیٰ ﴿وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ کے ظاہری الفاظ غازیوں تک محدود کرنے کا موجب نہیں، اسی وجہ سے شیخ قفال نے بعض فقہاء سے نقل کیا کہ وہ تمام اُمور خیر میں صدقات خرچ کرنے کی اجازت دیتے، مثلاً میت کا کفن، قلعوں اور مساجد کی تعمیر کیونکہ ارشادِ ربانی ﴿وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ ان تمام کو شامل ہے۔

رازي، التفسير الكبير، 16: 90، بيروت: دار الكتب العلمية

صاحب تفسیر المنار علامہ محمد رشید بن علی رضا قلمونی زکوٰۃ کے مصرف فی سبیل اللہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

وَالتَّحْقِيقُ: أَنَّ سَبِيلَ اللهِ هُنَا مَصَالِحُ الْمُسْلِمِينَ الْعَامَّةُ الَّتِي بِهَا قِوَامُ أَمْرِ الدِّينِ وَالدَّوْلَةِ دُونَ الْأَفْرَادِ... وَمِنْ أَهَمِّ مَا يُنْفَقُ فِي سَبِيلِ اللهِ فِي زَمَانِنَا هَذَا إِعْدَادُ الدُّعَاةِ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَإِرْسَالُهُمْ إِلَى بِلَادِ الْكُفَّارِ مِنْ قِبَلِ جَمْعِيَّاتٍ مُنَظَّمَةٍ تَمُدُّهُمْ بِالْمَالِ الْكَافِي كَمَا يَفْعَلُهُ الْكُفَّارُ فِي نَشْرِ دِينِهِمْ... وَيَدْخُلُ فِيهِ النَّفَقَةُ عَلَى الْمَدَارِسِ لِلْعُلُومِ الشَّرْعِيَّةِ وَغَيْرِهِمْ مِمَّا تَقُومُ بِهِ الْمَصْلَحَةُ الْعَامَّةُ

تحقیق یہ ہے کہ سبیل اللہ سے مراد وہ مصالح اور مفید کام ہیں جن سے مخصوص افراد نہیں بلکہ عام مسلمانوں کو فائدہ پہنچے جن سے دین اور دولت دونوں کو تقویت حاصل ہو۔ ہمارے زمانہ میں سب سے اہم کام جس میں اس مد کا روپیہ خرچ کیا جائے وہ مبلغین اسلام کو تیار کرنا ہے اور انہیں منظّم انجمنوں کی نگرانی میں کفّار کے ممالک میں تبلیغ دین کے لیے بھیجنا ہے اور ان کی مالی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ اس میں مدارسِ اسلامیہ داخل ہیں جن میں علم دینیہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ان کے علاوہ وہ کام جن میں مصلحت عامہ ہے۔

قلموني، تفسير القرآن الحكيم (تفسير المنار)، 10: 435- 436، الهيئة المصرية العامة للكتاب

مقصد یہ ہے کہ علوم دینیہ عرف عام میں یا دیگر علوم جن سے مخلوق خدا کو فائدہ پہنچے، جیسے سائنسی، طبی، ایٹمی، فذکس، کیمسٹری، جیو میٹری، حساب، معاشیات، جغرافیہ، تاریخ اور دیگر علوم جدیدہ سب فی سبیل اللہ میں شامل ہیں۔

فقہا ء کرام مصرف زکوٰۃ فی سبیل اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں:

وَأَمَّا قَوْلُهُ تَعَالَی: { وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ} عِبَارَةً عَنْ جَمِيْعِ الْقُرَبِ فَيَدْخُلُ فِيْهِ کُلُّ مَنْ سَعَی فِي طَاعَةِ اللهِ تَعَالَی، وَسَبِيْلِ الْخَيْرَاتِ.

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: { وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ } یہ سارے نیک کاموں کی تعبیر ہے، اس لئے اس میں ہر ایسا امر داخل ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اچھائی کے لیے کیا گیا ہو۔

  1. علاء الدين الکاساني، بدائع الصنائع، 2: 45، بيروت: دار الکتاب العربي
  2. ابن نجيم، البحر الرائق، 2: 260، بيروت: دار المعرفة
  3. ابن عابدين، ردالمحتار، 2: 343، بيروت: دار الفکر

رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کی مجلس المجمع الفقہ الاسلامی کے اجلاس منعقدہ 28 ربیع الآخر 1405 ہجری بمطابق 19 جنوری 1985 عیسوی میں علماء کے اجتماعی فیصلہ سے جو قرار داد منظور ہوئی اس میں فی سبیل کے مصرف کے بارے میں جو فیصلہ کیا گیا اس میں درج ہے:

نظراً إلى أن القول الثاني قد قال به طائفة من علماء المسلمين، وأن له حظاً من النظر في بعض الآيات الكريمة مثل قوله تعالى: ﴿الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنْفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى﴾ ]البقرة، 2: 262[ ومن الأحاديث الشريفة مثل ما جاء في أبي داود: أن رجلاً جعل ناقة في سبيل الله، فأرادت امرأته الحج، فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم: اركبيها فإن الحج في سبيل الله... فإن المجلس يقرر بالأكثرية المطلقة دخول الدعوة إلى الله تعالى، وما يعين عليها، ويدعم أعمالها، في معنى: {وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ} في الآية الكريمة.

اس بات کے پیش نظر کہ دوسرے قول کے قائل علماء مسلمین کا ایک گروہ ہے اور اس کی تائید بعض آیاتِ کریمہ سے ہوتی ہے، مثلاً ﴿جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں پھر اپنے خرچ کیے ہوئے کے پیچھے نہ احسان جتلاتے ہیں اور نہ اذیت دیتے ہیں﴾ نیز بعض احادیث شریفہ سے بھی ہوتی ہے مثال کے طور پر ابو داؤد کی یہ روایت کہ ایک شخص نے اپنی اونٹنی اللہ کی راہ میں دے دی اور اس کی بیوی حج کرنا چاہتی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اس پر سواری کرو کیونکہ کہ حج فی سبیل اللہ میں داخل ہے۔ یہ مجلس مطلق کثرتِ رائے سے طے کرتی ہے کہ دعوت الی اللہ اور جو چیزیں اس میں معاون ہوں اور جو کام اس کو تقویت پہنچانے والے ہوں وہ سب آیت کریمہ میں مذکور ﴿وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ کے معنی میں داخل ہیں۔

عبد الله بن محمد الطيّار، عبد الله بن محمّد المطلق، محمَّد بن إبراهيم الموسَى، الفِقهُ الميَسَّر، 9: 121، الرياض: المملكة العربية السعودية

درج بالا المجمع الفقہ الاسلامی مکہ کے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ مجاہد الاسلام قاسمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

بدلتے ہوئے حالات میں علماء کی مذکورہ بالا آراء اور المجمع الفقہ الاسلامی مکہ کے اس فیصلہ کے پیشِ نظر فی سبیل اللہ کا مصداق تمام امور کو قرار دیا جا سکتا ہے جو دین کی دعوت، اس کی تدریس، اس کی نشرواشاعت اور اس کی خدمت کے تعلق سے ملّت کو درپیش ہیں۔ اس مفہوم کو عسکری جہاد تک محدود رکھنا صحیح نہ ہو گا۔

قاسمي، مصرف زكاة في سبيل الله: 206، كراتشي: ادارة القرآن والعلوم الاسلامية

ان تصریحات کے مطابق فی سبیل اللہ کے مفہوم اور مصداق میں بہت وسعت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا زکوٰۃ کے اس مصرف کو صرف عسکری جہاد، غازیوں کی حوصلہ افزائی اور حاجیوں کے لیے مقید کرنا جائز نہیں ہے۔ عصر حاضر میں دین کی ترویج واشاعت، دعوت وتبلیغ، تعلیم وتدریس، کتب دینیہ وعصریہ کی ترسیل اور اصلاح معاشرہ کی خاطر اٹھائے جانے والے ہر قدم کے لیے زکوٰۃ کی رقم خرچ کر سکتے ہیں۔

مسئلہ تملیک

تملیک سے مراد ’مالک بنانا‘ ہے یعنی متعلقہ فرد یا جماعت کو زکوٰۃ کا مالک بنا دیا جائے تاکہ مالدار کا دینا اور حقدار کا لینا ثابت ہو جائے۔ یہ ایک تعبیری اور اجتہادی مسئلہ ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کے صحیح ہونے کے لیے ’تملیک‘ کے لازمی شرط ہونے کے حوالے سے فقہاء کرام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ فقہاء کرام کا ایک طبقہ ادائیگیِ زکوٰۃ کی صحت کے لیے ’تملیک شخصی‘ کو بنیادی رُکن اور شرط کا درجہ دیتا ہے۔ اس طبقہ کے مؤقف کے مطابق مالِ زکوٰۃ کو جب جب تک قرآن کے بیان کردی مصارفِ زکوٰۃ، فقراء ومساکین، غربا وبیوگان اور یتامیٰ وغیرہ کی ذاتی ملکیت اور انفرادی تصرف میں کلیتًا نہ دے دیا جائے، زکوٰۃ کی ادائیگی درست اور جائز نہیں ہوتی اور نہ ہی مالکِ مال ادائیگیِ زکوٰۃ کے فریضہ سے عہدہ برآ ہو سکتا ہے۔ اس تصور کے پیشِ نظر لوگ اپنی زکوٰۃ کی رقم اپنے مستحق اَعزاء واقرباء اور غریب گھرانوں میں دے دیتے ہیں۔ انہیں یہ خیال رہتا ہے کہ شاید قومی سطح پر اِجتماعی مقاصد ومصالح اور فلاحی منصوبوں کے لیے زکوٰۃ کا دیا جانا اَز روئے شریعت مقبول نہیں۔

شرطِ تملیک کے پیشِ نظر بعض فقہاء کرام نے بیان کیا ہے کہ خانقاہیں، مساجد، سرائے، پانی کی سبیلیں اور حوض بنانے، پلوں کی مرمت کرنے، مُردوں کی تکفین وتدفین جیسے نیکی کے کاموں میں زکوٰۃ کو صرف کرنا جائز نہیں کیونکہ ان میں تملیک بالکل نہیں پائی جاتی۔ اسی طرح کسی شخص نے مالِ زکوٰۃ سے طعام خریدا اور فقراء کوصبح وشام کھانا کھلایا لیکن عین طعام ان کے شپرد نہیں کیا تو زکوٰۃ کی ادائیگی درست نہ ہوئی کیونکہ اس صورت میں تملیک نہیں ہوئی۔ اسی طرح اگر صاحبِ نصاب نے مالِ زکوٰۃ سے کسی زندہ فقیر کا قرض اس کے حکم کے بغیر ادا کر دیا تو یہ بھی جائز نہیں کیونکہ اس صورت میں بھی فقیر کو مالک نہیں بنایا گیا اسی طرح اگر کسی شخص نے مالِ زکوٰۃ سے غلام خرید کر آزاد کر دیا تو یہ جائز نہیں۔

اس کے برعکس بعض فقہاء کرام کا مؤقف ہے کہ ادائیگیِ زکوٰۃ میں تملیکن ضروری نہیں کیونکہ اِنفرادی تملیک کا معنیٰ ومفہوم آیتِ مصارف کے سیاق وسباق سے اخذ ہوتا ہے نہ اِقتضاء النص سے واضح ہوتا ہے۔ قرآن وحدیث میں اس تاویل وتعبیر کی کوئی دلیل نہیں ملتی، نہ اَقوال وآثارِ صحابہ سے اس کی تائید ملتی ہے اور نہ ہی فقہاء کرام کی طرف سے بیان کردہ زکوٰۃ کا شرعی معنیٰ تملیک کے تصور کو اُجاگر کرتا ہے۔

وجہ اختلاف

ادائیگی زکوٰۃ کے صحیح ہونے کے لیے تملیک کے شرط ہونے کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف کی وجہ آیتِ مصارفِ زکوٰۃ میں کلمہ ’لِ‘ میں مختلف معانی کا احتمال پایا جانا ہے۔ آیتِ مصارف ملاحظہ ہو:

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌo

بے شک صدقات (زکوٰۃ) محض غریبوں اور محتاجوں اور ان کی وصولی پر مقرر کیے گئے کارکنوں اور ایسے لوگوں کے لیے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو اور (مزید یہ کہ) انسانی گردنوں کو (غلامی کی زندگی سے) آزاد کرانے میں اور قرضداروں کے بوجھ اتارنے میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں پر (زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے)۔ یہ (سب) اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔

التوبة، 9: 60

مندرجہ بالا آیت مصارف میں لِلْفُقَرَاءِ کی لِ کی مقصدیت اور معنوی تحقیق وتعیین پر مفسرینِ کرام اور اَہلِ علم کے ہاں مسئلہ تملیک کا اِختلاف پیدا ہوا۔ اِس کی مختلف تشریحات وتوضیحات پیش کی گئیں۔ عربی لغت میں لام درج ذیل مختلف معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے:

  1. لام برائے اَجل (کے لیے)
  2. لام برائے اِختصاص (خاص کرنا)
  3. لام برائے اِستحقاق (مقدار ہونا)
  4. لام برائے تملیک (مالک بنانا)
  5. لام برائے اِنتقاع (فائدہ پہنچانا)
  6. لام برائے تقدیر مفروضہ (تکمیلِ اَمر)

عام طور پر لام یعنی ’لِ‘ کا معنی ’کے لیے‘ کیا جاتا ہے، اس ’کے لیے‘ سے کیا مراد ہے؟ اس کی تفسیر وتشریح میں جا کے مسئلہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔ جو فقہاء کرام ادائیگیِ زکوٰۃ کے صحیح ہونے کے لیے تملیک کو شرط قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک آیتِ مصارف میں ’ لِ‘ برائے تملیک ہے اور جو فقہاء کرام اور ائمہ تفسیر’ لِ‘ کو تملیک کے لیے نہیں مانتے ان کے نزدیک آیت میں ’لِ‘ دوسرے معانی یعنی تخصیص، اِستحقاق، اِنتقاع اور اِختصاص کے لیے استعمال ہوا ہے۔

پھر وہ علماء وفقہاء اور مفسرین کرام جنہوں نے مسئلہ زکوٰۃ میں ذرا سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور ’ لِ‘ کےمعنیٰ کے تعین میں ’تملیک‘ کو خاص کیا ہے، ان کے ہاں بھی صرف درج ذیل پہلی چار مدات میں اِنفرادی وشخصی تملیک پائی جاتی ہے:

  1. فقراء
  2. مساکین
  3. عاملینِ زکوٰۃ کا اِنتظامی اور مالی اِدارہ
  4. مؤلفۃ القلوب

جبکہ درج ذیل چار مدات اِجتماعی مقاصد مصالح کے لیے قرار دی جاتی ہیں:

  1. الرقاب (غلاموں کی آزادی)
  2. الغارمون (مقروض)
  3. فی سبیل اللہ
  4. ابن السبیل

بعض فقہاء ومفسرین کے لیے نزدیک پہلی لام -لِلْفُقَرَاءِ- سرے سے تملیک کے لیے ہے ہی نہیں۔ اس کی موقف کے حامل فقہاء ومفسرین جملہ مصارفِ زکوٰۃ میں سے کسی میں بھی انفرادی طور پر مالِ زکوٰۃ دیں اور مالک بنائیں تو حرج نہیں۔ لہٰذا زکوٰۃ کسی قسم کی شرط کے بغیر بھی ادا ہو جائے گی۔

راجح قول

مختلف فقہاء کرام کے اِجمالی مؤقف سے بنیادی نکتہ بہرحال واضح ہو جاتا ہے کہ ادائیگی زکوٰۃ میں تملیک ذاتی شرط نہیں بلکہ اس میں بڑی وسعت پائی جاتی ہے اور ادائیگی کے لیے بہت سے طریقے اپنائے جا سکتے ہیں۔ چنانچہ یہ تصور کرنا کہ زکوٰۃ صرف انفرادی طور پر لوگوں کو دینے سے ہی ادا ہو گی، اجتماعی مقاصد ومصالح پر خرچ نہیں ہو سکتی، یہ تصور سرے سے کسی فقہی مذہب میں نہیں ہے، نہ احناف اور مالکیوں کا ہے، نہ شوافع اور حنابلہ کا قول ہے۔

تمام فقہاء کرام کا یہ متّفقہ اُصول ہے کہ شریعتِ مطہرہ میں کسی قسم کی زیادتی، بلادلیلِ شرعی قرآنی علوم کی تخصیص اور کسی مطلق کی تقیید وتشریط کا حق کسی فردِ بشر کوحاصل نہیں، جب تک کہ اس کی اصل شریعت میں موجود نہ ہو۔چنانچہ اس قاعدے کے مطابق آیتِ مصارف میں زکوٰۃ وصدقات کی ادائیگی کے باب میں تملیک کی شرط عائد کرنا اور لِلْفُقَرَاءِ کے لام کو تملیک کے لیے خاص کرنا کتاب اللہ کے مطلق حکم کو مقید کرنا ہے، جبکہ اس کی تقیید کی کوئی اصل شریعت میں موجود نہیں ہے۔

آیتِ مصارف کے سیاق وسباق سے بھی اس مؤقف کی تائید ہوتی ہے کہ تملیک شخصی شرط نہ ہو۔

وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ فَإِنْ أُعْطُوا مِنْهَا رَضُوا وَإِنْ لَمْ يُعْطَوْا مِنْهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَo وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوا مَا آتَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ سَيُؤْتِينَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَى اللَّهِ رَاغِبُونَo

اور ان ہی میں سے بعض ایسے ہیں جو صدقات (کی تقسیم) میں آپ پر طعنہ زنی کرتے ہیں، پھر اگر انہیں ان (صدقات) میں سے کچھ دے دیا جائے تو وہ راضی ہو جائیں اور اگر انہیں اس میں سے کچھ نہ دیا جائے تو وہ فوراً خفا ہو جاتے ہیں۔ اور کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ لوگ اس پر راضی ہو جاتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے عطا فرمایا تھا اور کہتے کہ ہمیں اللہ کافی ہے۔ عنقریب ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اس کا رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزید) عطا فرمائے گا۔ بے شک ہم اللہ ہی کی طرف راغب ہیں (اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کا واسطہ اور وسیلہ ہے، اس کا دینا بھی اللہ ہی کا دینا ہے۔ اگر یہ عقیدہ رکھتے اور طعنہ زنی نہ کرتے تو یہ بہتر ہوتا)۔

التوبة، 9: 58، 59

یہاں ان منافقین کا ذکر ہو رہا ہے، جو اپنے ذاتی نقصان کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سوءِ ظن رکھتے تھے کہ اگر ان کی خواہش کے مطابق صدقات میں سے دے دیا جاتا تو خوب تعریفیں کیا کرتے اور اگر ایسا نہ ہو تا تو الزام تراشی کرتے کہ (معاذ اللہ) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانب داری کا ثبوت دیا ہے۔

ان منافقین کے نفاق، طمع اور حرص کو واشگاف الفاظ میں بیان کرتے ہوئے انہیں متنبہ کیا جا رہا ہے کہ تم زکوٰۃ وخیرات کے مستحق نہیں ہو بلکہ اس کے اصل حق دار تو فقراء ومساکین ہیں۔ چنانچہ آیت کا سیاق سباق بھی اسی بات کا متقاضی ہے کہ یہ لام ’تملیک‘ کے لیے نہیں بلکہ اِختصاص ہی کے لیے ہے۔ سیاق وسباق سے یہی مفہوم واضح ہوتا ہے کہ مال کو کسی کی مِلک میں دینے کی کوئی صراحت نہیں بلکہ یہاں تو مستحقینِ زکوٰۃ وخیرات کی اَصناف کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنا مقصود ہے۔

احمد بن منیر اسکندری نے الكشاف کے حاشیہ میں اس امت کی تصریح کی ہے کہ آیتِ مصارف کا سیاق تملیک کو بیان نہیں کرتا۔

لا يساعده السياق فإن الآية مصدرة بكلمة الحصر الدالة على أن غيرهم لا يستحق فيها نصيباً فهذا هو الغرض الذي سبقت له فلا اقتضاء فيها لما سواء والله أعلم.

آیت کا سیاق بھی لامِ تملیک کے تصور کی موافقت نہیں کرتا کیونکہ آیت مبارکہ تو کلمہ حصر -إِنَّمَا- سے شروع ہو رہی ہے۔ جو اس چیز پر دلالت کرتا ہے کہ ان کے علاوہ کوئی حقدار نہیں۔ یہی وہ غرض ہے جس کی وجہ سے کلام کو لایا گیا ہے۔ سو اس مفہوم کو لینے کے لیے آیت میں کوئی تقاضا (دلیل) نہیں اور نہ ہی اس کے علاوہ کوئی اور قرینہ موجود ہے۔

ابن المنير، الانتصاف على الكشاف عن حقاءق غوامض التنزيل، 2: 282، بيروت: دار الكتاب العربي

خلاصہ کلام

دلائل قرانیہ اور اقوال اَئمہ وفقہاء کی روشنی میں ایک واضح موقف سامنے آتا ہے وہ یہ کہ لام برائے تملیک مراد لینا کسی صورت بھی درست نہیں ہے کیونکہ عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ تملیک کی شرط نہ ہو۔ نیز ادائیگیِ زکوٰۃ کا مُدعا اور مقصد دلوں سے مال کی محبت کو کم کرنا ہے۔ اب اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے تملیک ضروری نہیں، خواہ یہ مقصد انفرادی طریق پر پورا ہو یا اِجتماعی پر، ہر طرح درست ہے۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اگر کوئی مستحق مل جائے تو فبہا ورنہ اجتماعی فلاح وبہبود کے منصوبوں پر زکوٰۃ کا مال خرچ کیا جائے۔ یہ اسلام کے تقاضوں کے عین مطابق ہے کیونکہ اسلام صرف انفرادی عمل نہیں بلکہ اجتماعی عمل کا دین بھی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟