خطبۂ حجۃ الوداع کے اہم نکات کیا ہیں؟


سوال نمبر:5816
السلام علیکم! مفتی صاحب رسول اللہ ﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع کی بہت اہمیت بیان کی جاتی ہے۔ اس کے اہم نکات کیا ہیں؟

  • سائل: خاقان ثناءاللہمقام: کوٹ مومن
  • تاریخ اشاعت: 08 اگست 2020ء

زمرہ: سیرت

جواب:

خطبہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانیت کی عظمت، احترام اور حقوق پر مبنی ابدی تعلیمات اور اصول عطا کیئے مگر سیرت نبوی میں حقوق انسانی سے متعلق یہ واحد دستاویز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری زندگی انسانیت نوازی اور تکریم انسانیت کی تعلیمات سے عبارت ہے۔ تاہم آپ کی حیات مبارکہ میں انسانی حقوق کے تحفظ اور عملی نفاذ کے حوالے سے خطبہ فتح مکہ اور خطبہ حجۃ الوداع کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔

خطبۂ حجۃ الوداع کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

اِبتدائیہ (Preamble)

اِذَا کَانَ یَوْمُ الْحَجِّ اَتٰی رَسُوْلُ ﷲِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَرَفَةَ، فَنَزَلَ بِهَا حَتّٰی اِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ، اَمَرَ بِالْقَصْوَآءِ فَرُحِلَتْ لَهٗ، فَاَتٰی بَطْنَ الْوَادِیْ، فَخَطَبَ النَّاسَ خُطْبَتُهُ الَّتِیْ بَیَّنَ فِیْهَا مَا بَیَّنَ.

’’حج کے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں قیام فرمایا۔ جب سورج ڈھلنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اپنی اونٹنی) قصوا لانے کا حکم فرمایا۔ اونٹنی تیار کر کے حاضر کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اس پر سوار ہو کر) بطنِ وادی میں تشریف فرما ہوئے اور اپنا وہ خطبہ ارشاد فرمایا جس میں دین کے اہم امور بیان فرمائے۔‘‘

فَحَمِدَ ﷲَ، وَ اَثْنٰی عَلَیْهِ قَائِلاً: لَا اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ وَحْدَهٗ لَا شَرِیْکَ لَهٗ، صَدَقَ وَعْدَهٗ، وَ نَصَرَ عَبْدَهٗ، وَ هَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَهٗ.

’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدا کی حمد ثنا کرتے ہوئے خطبے کی یوں ابتدا فرمائی: خدا کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے۔ وہ یکتا ہے، کوئی اس کا شریک نہیں، خدا نے اپنا وعدہ پورا کیا، اس نے اپنے بندے (رسول) کی مدد فرمائی اور تنہا اس کی ذات نے باطل کی ساری مجتمع قوتوں کو زیر کیا۔‘‘

اَیُّهَا النَّاسُ! اِسْمَعُوْا قَوْلِیْ، فَاِنِّیْ لَا اَرَانِیْ وَ اِیَّاکُمْ اَنْ نَجْتَمِعَ فِیْ ھٰذَا الْمَجْلِسِ اَبَدًا بَعْدَ عَامِیْ ھٰذَا.

’’لوگو! میری بات سنو، میں نہیں سمجھتا کہ آئندہ کبھی ہم اس طرح کسی مجلس میں یکجا ہو سکیں گے (اور غالباً اس سال کے بعد میں حج نہ کر سکوں گا)۔‘‘

1۔ مساواتِ اِنسانی کا تصور (Equality of humanity)

اَیُّهَا النَّاسُ! اِنَّ ﷲَ یَقُوْلُ: یٰـٓاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی وَ جَعَلْنٰـکُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْاط اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ ﷲِاَتْقٰـکُمْ. فَلَیْسَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ فَضْلٌ، وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی اَبْیَضَ، وَلَا لِاَبْیَضَ عَلٰی اَسْوَدَ فَضْلٌ اِلَّا بِالتَّقْوٰی.

’’لوگو! اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اے انسانو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہیں جماعتوں اور قبیلوں میں بانٹ دیا کہ تم الگ الگ پہچانے جا سکو، تم میں زیادہ عزت و کرامت والا خدا کی نظروں میں وہی ہے جو خدا سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔‘‘ چنانچہ اس آیت کی روشنی میں نہ کسی عرب کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل ہے نہ کسی عجمی کو کسی عرب پر، نہ کالا گورے سے افضل ہے نہ گورا کالے سے۔ ہاں! بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے تو وہ تقویٰ ہے۔‘‘

اَلنَّاسُ مِنْ اٰدَمَ وَ اٰدَمُ مِنْ تُرَابٍ، اَلاَ کُلُّ مِأْثَرَۃٍ اَوْ دَمٍ اَوْ مَالٍ یُدَّعٰی بِہٖ فَهُوَ تَحْتَ قَدَمَیَّ هَاتَیْنِ اِلَّا سَدَانَۃُ الْبَیْتِ وَ سَقَایَۃُ الْحَاجِّ.

’’انسان سارے ہی آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنائے گئے۔ اب فضیلت و برتری کے سارے دعوے، خون و مال کے سارے مطالبے اور سارے اِنتقام میرے پاؤں تلے روندے جا چکے ہیں۔ بس بیت اﷲ کی تولّیت اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمات علیٰ حالہٖ باقی رہیں گی۔‘‘

2۔ حقوق کی ادائیگی کا حکم (Observance of rights)

ثُمَّ قَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! لَا تَجِیْؤُا بِالدُّنْیَا تَحْمِلُوْنَهَا عَلٰی رِقَابِکُمْ، وَ یَجِئُ النَّاسُ بِالْاٰخِرَۃِ، فَلَا اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِنَ ﷲِشَیْئًا.

’’پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قریش کے لوگو! ایسا نہ ہو کہ اﷲ کے حضور تم اس طرح آؤ کے تمہاری گردنوں پر تو دنیا کا بوجھ لدا ہو اور دوسرے لوگ سامانِ آخرت لے کر پہنچیں اور اگر ایسا ہوا تو میں خدا کے سامنے تمہارے کچھ کام نہ آ سکوں گا۔‘‘

3۔ نسلی تفاخر کا خاتمہ (Eradication of ethnicism)

مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! اِنَّ ﷲَ قَدْ اَذْهَبَ عَنْکُمْ نَخْوَةَ الْجَاهِلِیَّۃِ، وَ تَعَظُّمَهَا بِالْاٰبَاءِ.

’’قریش کے لوگو! خدا نے تمہاری جھوٹی نخوت کو ختم کر ڈالا اور باپ دادا کے کارناموں پر تمہارے فخر و مباہات کی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘

4۔ زندگی کا حق (Right of life)

اَیُّهَا النَّاسُ! اِنَّ دِمَائَکُمْ وَ اَمْوَالَکُمْ وَ اَعْرَاضَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ، اِلٰی اَنْ تَلْقَوْا رَبَّکُمْ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ هٰذَا، وَ کَحُرْمَۃِ شَهْرِکُمْ هٰذَا، فِیْ بَلَدِکُمْ هٰذَا، وَ اِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ، فَیَسْئَلُکُمْ عَنْ اَعْمَالِکُمْ.

’’لوگو! تمہارے خون و مال اور عزتیں ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے پر قطعاً حرام کر دی گئی ہیں۔ ان چیزوں کی اہمیت ایسی ہی ہے جیسی اس دن کی اور اس ماہ مبارک (ذی الحجہ) کی خاص کر اس شہر میں ہے۔ تم سب خدا کے حضور جاؤ گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بازپرس فرمائے گا۔‘‘

اَلاَ! فَـلَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ ضُلَّا لًا یَّضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ.

’’دیکھو کہیں میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ آپس میں ہی کشت و خون کرنے لگو۔‘‘

5۔ مال کے تحفظ کا حق (Right of property)

فَمَنْ کَانَتْ عِنْدَهٗ اَمَانَۃٌ فَلْیُؤَدِّهَا اِلٰی مَنِ ائْتَمَنَهٗ عَلَیْهَا.

’’اگر کسی کے پاس امانت رکھوائی جائے تو وہ اس بات کا پابند ہے کہ امانت رکھوانے والے کو امانت پہنچا دے۔‘‘

6۔ اَفرادِ معاشرہ کا حق (Right of society members)

اَیُّهَا النَّاسُ! کُلُّ مُّسْلِمٍ اَخُوا الْمُسْلِمِ، وَ اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ اِخْوَۃٌ.

’’لوگو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘

7۔ خادموں کا حق (Right of workers & servants)

اَرِقَّآئَکُمْ اَرِقَّائَکُمْ، اَطْعِمُوْهُمْ مِمَّا تَاْکُلُوْنَ، وَاکْسُوْهُمْ مِمَّا تَلْبَسُوْنَ.

’’اپنے غلاموں کا خیال رکھو، ہاں غلاموں کا خیال رکھو، انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو، ایسا ہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو۔‘‘

8۔ لاقانونیت کا خاتمہ (No to lawlessness)

اَلاَ! کُلُّ شَیْئٍ مِنْ اَمْرِ الْجَاهِلِیَّۃِ تَحْتَ قَدَمَیَّ مَوْضُوْعٌ، وَ دِمَاءَ الْجَاهِلِیَّۃِ مَوْضُوْعَۃٌ، وَ اِنَّ اَوَّلَ دَمٍ اَضَعُ مِنْ دِمَآئِنَا دَمُ ابْنِ الرَّبِیْعَۃِ بْنِ الْحَارِثِ، وَ کَانَ مُسْتَرْضَعًا فِیْ بَنِیْ سَعْدٍ، فَقَتَلَهٗ هُذَیْلٌ.

’’دور جاہلیت کا سب کچھ میں نے اپنے پیروں تلے روند دیا۔ زمانہ جاہلیت کے خون کے سارے انتقام اب کالعدم ہیں۔ پہلا انتقام جسے میں کالعدم قرار دیتا ہوں، میرے اپنے خاندان کا ہے۔ ربیعہ بن حارث کے دودھ پیتے بیٹے کا خون جسے بنو ہذیل نے مار ڈالا تھا، اب میں معاف کرتا ہوں۔‘‘

9۔ معاشی اِستحصال سے تحفظ کا حق (Economic rights)

وَ رِبَا الْجَاهِلِیَّۃِ مَوْضُوْعٌ، وَ اَوَّلُ رِبًا اَضَعُ رِبَانَا رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطْلِبِ، فَاِنَّهٗ مَوْضُوْعٌ کُلَّهٗ.

’’اب دور جاہلیت کا سود کوئی حیثیت نہیں رکھتا، پہلا سود جسے میں چھوڑتا ہوں، عباس بن عبدالمطلب کے خاندان کا سود ہے، اب یہ ختم ہوگیا۔‘‘

10۔ وراثت کا حق (Right of inheritance)

ایُّهَا النَّاسُ! اِنَّ ﷲَ ل قَدْ اَعْطٰی کُلَّ ذِیْ حَقٍّ حَقَّهٗ، فَـلَا وَصِیَّةَ لِوَارِثٍ.

’’لوگو! خدا نے ہر حق دار کو اس کا حق خود دے دیا، اب کوئی کسی وارث کے حق کے لئے وصیت نہ کرے۔‘‘

11۔ نومولود کے تحفظِ نسب کا حق (Newborn's right of anscestral sanctity)

اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَ لِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَ حِسَابُهُمْ عَلَی ﷲِ.

’’بچہ اس کی طرف منسوب کیا جائے گا جس کے بستر پر وہ پیدا ہوا، جس پر حرام کاری ثابت ہو اس کی سزا پتھر ہے، اور ان کا حساب و کتاب خدا کے ہاں ہوگا۔‘‘

12۔ معاشرتی شناخت کا حق (Right of social identity)

مَنِ ادَّعٰی إِلٰی غَیْرِ اَبِیْهِ، اَوْ تَوَلّٰی إِلٰی غَیْرِ مَوَالِیْهِ فَعَلَیْهِ لَعْنَۃُ ﷲِ.

’’جو کوئی اپنا نسب بدے گا یا کوئی غلام اپنے آقا کے مقابلے میں کسی اور کو اپنا آقا ظاہر کرے گا تو اس پر خدا کی لعنت ہوگی۔‘‘

13۔ قرض کی وصولی کا حق (Right to recieve the debts)

اَلدَّیْنُ مَقْضِیٌّ، وَالْعَارِیَۃُ مُرْدَأْۃٌ، وَالْمِنْحَۃُ مَرْدُوْدَۃٌ، وَ الزَّعِیْمُ غَارِمٌ.

’’قرض قابلِ ادائیگی ہے، عاریتاً لی ہوئی چیز واپس کرنی چاہئے، تحفے کا بدلہ دینا چاہئے اور جو کوئی کسی کا ضامن بنے، وہ تاوان ادا کرے۔‘‘

14۔ ملکیت کا حق (Right of ownership)

وَلَا یَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ اَخَیْهِ اِلَّا مَا اَعْطَاهُ عَنْ طِیْبِ نَفْسٍ مِنْهُ، فَلَا تَظْلِمُنَّ اَنْفُسَکُمْ.

’’کسی کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے کچھ لے، سوائے اس کے جس پر اس کا بھائی راضی ہو اور خو شی خوشی دے۔ خود پر اور ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرو۔‘‘

15۔ خاوند اور بیوی کے باہمی حقوق (Rights of husbands & wives)

اَلاَ! لَا یَحِلُّ لِامْرَأَۃٍ اَنْ تُعْطِیَ مِنْ مَالِ زَوْجِهَا شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِہٖ. اَیُّهَا النَّاسُ! اِنَّ لَکُمْ عَلٰی نِسَآئِکُمْ حَقًّا، وَ لَهُنَّ عَلَیْکُمْ حَقًّا، لَکُمْ عَلَیْهِنَّ اَلَّا یُوْطِئْنَ فَرْشَکُمْ اَحَدًا تَکْرَهُوْنَهٗ، وَ عَلَیْهِنَّ اَنْ لَّا یَاتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ، فَاِنْ فَعَلْنَ فَاِنَّ ﷲَ قَدْ اَذِنَ لَکُمْ اَنْ تَهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اَنْ تَضْرِبُوْا ضَرْبًا غَیْرَ مُبْرَحٍ، فَاِنِ انْتَهَیْنَ فَلَهُنَّ رِزْقُهُنَّ وَکِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْروْفِ.

’’عورت کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کا مال اس کی اِجازت کے بغیر کسی کو دے۔ دیکھو! تمہارے اوپر تمہاری عورتوں کے کچھ حقوق ہیں۔ اسی طرح ان پر تمہارے حقوق واجب ہیں۔ عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ اپنے پاس کسی ایسے شخص کو نہ بلائیں جسے تم پسند نہیں کرتے اور وہ کوئی خیانت نہ کریں، کوئی کام کھلی بے حیائی کا نہ کریں اور اگر وہ ایسا کریں تو خدا کی جانب سے اجازت ہے کہ تم انہیں معمولی جسمانی سزا دو اور وہ باز آجائیں تو انہیں اچھی طرح کھلاؤ پہناؤ۔‘‘

16۔ خواتین کے حقوق (Women's rights)

وَاسْتَوْصُوْا بِالنِّسَآءِ خَیْرًا، فَاِنَّهُنَّ عَوَانٍ لَکُمْ لَا یَمْلِکْنَ لِاَنْفُسِهِنَّ شَیْئًا، فَاتَّقُوا ﷲَ فِی النِّسَآءِ، فَاِنَّکُمْ اَخذْ تُمُوْهُنَّ بِاَمَانِ ﷲِ، وَاسْتَخْلَلْتُمْ فُرُوْجَهُنَّ بِکَلِمَاتِ ﷲِ.

’’عورتوں سے بہتر سلوک کرو کیونکہ وہ تو تمہاری پابند ہیں اور خود اپنے لئے وہ کچھ نہیں کر سکتیں۔ چنانچہ ان کے بارے میں خدا کا لحاظ رکھو کہ تم نے انہیں خدا کے نام پر حاصل کیا اور اسی کے نام پر وہ تمہارے لئے حلال ہوئیں۔ لوگو! میری بات سمجھ لو، میں نے حقِ تبلیغ ادا کر دیا۔‘‘

17۔ قانون کی اِطاعت (Obedience of law)

وَ اِنِّیْ قَدْ تَرَکْتُ فِیْکُمْ مَّا لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدَهٗ اَبَدًا، اِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِہٖ: کِتَابَ ﷲِ، وَ اِیَّاکُمْ و الْغُلُوُّ فِی الدِّیْنِ، فَاِنَّمَا اَهْلَکَ مَنْ قَبْلَکُمُ الْغُلُوُّ فِی الدِّیْنِ.

’’میں تمہارے درمیان ایک ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ تم کبھی گمراہ نہ ہو سکے گے اگر اس پر قائم رہے اور وہ خدا کی کتاب ہے، اور ہاں دیکھو، دینی معاملات میں غلو سے بچنا کہ تم سے پہلے کے لوگ انہی باتوں کے سبب ہلاک کر دیئے گئے۔‘‘

18۔ قانون کی حکمرانی (Right of law observance)

وَ اِنَّ الشَّیْطَانَ قَدْ یَئِسَ مِنْ اَنْ یُّعْبَدَ فِیْ اَرْضِکُمْ هٰذِهٖ اَبَدًا، وَلٰکِنْ سَتَکُوْنُ لَهٗ طَاعَۃٌ فِیْمَا تُحَقِّرُوْنَ مِنْ اَعْمَالِکُمْ، فَسَیَرْضٰی بِهِ فَاحْذَرُوْهُ عَلٰی دِیْنِکُمْ.

’’شیطان کو اب اس بات کی کوئی توقع نہیں رہ گئی ہے کہ اب اس کی اس شہر میں عبادت کی جائے گی لیکن اس بات کا امکان ہے کہ ایسے معاملات میں جنہیں تم کم اہمیت دیتے ہو اس کی بات مان لی جائے اور وہ اس پر راضی ہے۔ اس لئے تم اس سے اپنے دین و ایمان کی حفاطت کرنا۔‘‘

19۔ ﷲ کے حقوق (Divine rights)

اَلاَ! فَاعْبُدُوْا رَبَّکُمْ، وَ صَلُّوْا خَمْسَکُمْ، وَ صُوْمُوْا شَهْرَکُمْ، وَ اَدُّوْا زَکوٰةَ اَمْوَالِکُمْ طَیِّبَۃً بِهَا اَنْفُسُکُمْ، وَ تَحُجُّوْا بَیْتَ رَبِّکُمْ، وَ اَطِیْعُوْا وَلَاةَ اَمْرِکُمْ، تَدْخُلُوْا جَنَّةَ رَبِّکُمْ.

’’لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو، پانچ وقت کی نماز ادا کرو، مہینے بھر کے روزے رکھو، اپنے مالوں کی زکوٰۃ خوش دلی کے ساتھ دیتے رہو، اپنے خدا کے گھر کا حج کرو اور اپنے اہل اَمر کی اطاعت کرو تو اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘

20۔ اِنصاف کا حق (Right of justice)

اَلاَ! لَا یَجْنِیْ جَانٍ اِلَّا عَلٰی نَفْسِہٖ، اَلاَ! لَا یَجْنِیْ جَانٍ عَلٰی وَلَدِہٖ، وَ لَا مُوْلُوْدٌ عَلٰی وَالِدِہٖ.

’’آگاہ ہو جاؤ! اب مجرم خود ہی اپنے جرم کا ذمہ دار ہوگا، آگاہ ہو جاؤ! اب نہ باپ کے بدلے بیٹا پکڑا جائے گا اورنہ بیٹے کا بدلہ باپ سے لیا جائے گا۔‘‘

21۔ عوام الناس کا پیغامِ ہدایت سے آگہی کا حق (Right of awareness for future generations)

اَلاَ! فَلْیُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ اَوْعٰی مِنْ سَامِعٍ.

’’سنو! جو لوگ یہاں موجود ہیں انہیں چاہئے کہ یہ احکام اور یہ باتیں ان لوگوں کو بتا دیں جو یہاں نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی غیر موجود تم سے زیادہ سمجھنے اور محفوظ رکھنے والا ہو۔‘‘

22۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حق (Right of the Holy Prophet)

وَ اَنْتُمْ تُسْأَلُوْنَ عَنِّیْ، فَمَا ذَا اَنْتُمْ قَائِلُوْنَ؟ قَالُوْا: نَشْهَدُ اِنَّکَ قَدْ اَدَّیْتَ الْاَمَانَةَ، وَ بَلَّغْتَ الرِّسَالَةَ، وَ نَصَحْتَ.

’’اور لوگو! تم سے میرے بارے میں (خدا کے ہاں) سوال کیا جائے گا۔ بتاؤ تم کیا جواب دو گے؟ لوگوں نے جواب دیا: ہم اس بات کی شہادت دیں گے کہ آپ نے امانتِ (دین) پہنچا دی اور آپ نے حقِ رِسالت ادا فرما دیا اور ہماری خیر خواہی فرمائی۔‘‘

فَقَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِاَصْبُعِهِ السَّبَّابَۃِ یَرْفَعُهَا اِلَی السَّمَآءِ وَ یَنْکُتُهَا اِلَی النَّاسِ: اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ، اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ، اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ.

’’یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگشتِ شہادت آسمان کی جانب اٹھائی اور لوگوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ دعا فرمائی: ’’خدایا گواہ رہنا! خدایا گواہ رہنا! خدایا گواہ رہنا۔‘‘

اُس تاریک دور میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کو تکریم آدمیت اور حقوق انسانی کا عملی درس دیا اور ایک دوسرے کے حقوق و فرائض سے آگاہ فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حقوق و فرائض کی فکری اساس اور عملی نفاذ پر مبنی تاریخ ساز، دائمی، جامع اور ہمہ گیر منشور انسانی حقوق ’’خطبۂ حجۃ الوداع‘‘ کی شکل میں عطا فرما کر فلاحی اسلامی معاشرہ کی بنیاد رکھی۔ جس کی بدولت دور ظلمت کی تاریکی اور غیر مہذب مغربی دنیا بالآخر تہذیب و تمدن کی دولت اور انسانی حقوق سے متعارف ہو کر دور جدید میں داخل ہوئی۔

انسانی ارتقاء کا یہ سفر جاری ہے۔ تاہم اس سفر کی سمت کی درستگی، حقوق انسانی کا حقیقی شعور اور نفاذ کی مخلصانہ و نتیجہ خیز کاوشیں اس وقت ہی ظہور پذیر ہوسکتی ہیں جب دور جدید کا انسان آج بھی سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح اپنا رہنما قرار دے جس طرح دور ظلمت میں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی نے اسے رہنمائی عطا کی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔