مخصوص حالات میں قربانی کی بجائے کسی کی مالی مدد کرنا کیسا ہے؟

سوال نمبر:5797
السلام علیکم! اس برس کرونا کی وبا اور لاک ڈاؤن وغیرہ کی بنا پر لوگوں کے معاشی حالات بہت خراب ہیں۔ کیا ہم قربانی کے بجائے اس پیسے سے لوگوں کی مدد کرسکتے ہیں؟

  • سائل: عنایہ کاشفمقام: نامعلوم
  • تاریخ اشاعت: 28 جولائی 2020ء

زمرہ: قربانی کے احکام و مسائل

جواب:

حقداروں اور محتاجوں کی مدد کرنا ہمارا دینی و ملی فرض ہے، مگر یہ جانور قربان کرنے کا متبادل نہیں ہے۔ قربانی کے جانور شعائر اللہ ہیں یعنی اللہ کی نشانیاں اور اسلام معاشرے کا اظہار ہیں۔ صدقاتِ نافلہ اور قربانی دونوں اپنی اپنی جگہ پر مستقل عبادات ہیں، ان میں سے کوئی بھی دوسرے کا متبادل نہیں ہوسکتا۔

موجودہ کرونا وباء سے معاشرے کا بڑا حصہ مالی مسائل کا شکار ہے، اگر کوئی مالدار ان حالات میں دوسروں کی مالی مدد کرتا رہا ہے اور اب اس کے پاس قربانی کا جانور خریدنے کی استطاعت نہیں ہے تو اس پر قربانی واجب نہیں ہے، ایسی صورت میں اگر وہ قربانی نہیں کر پاتا تو گنہگار نہیں ہوگا۔ اس کے برعکس کسی شخص کو اللہ تعالیٰ نے وسعت دی ہے اور اس نے کرونا وباء کے دوران دل کھول کر صدقات و خیرات بھی کیے اور قربانی کا جانور خریدنے کی بھی استطاعت رکھتا ہے تو اس پر قربانی واجب ہے، اور اس کے متعلق وہ بروزِ قیامت جوابدہ ہے۔ صدقاتِ نافلہ کو قربانی کا متبادل نہیں سمجھا جاسکتا، یہ دونوں الگ الگ عبادات ہیں۔ مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

کیا جانور کی مالیت کے برابر کی رقم صدقہ کرنے سے قربانی ساقط ہوجاتی ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟