شوہر کے انتقال کے بعد اسکی بیوہ کا تمام جائیداد اپنے نام کرنا کیسا ہے؟

سوال نمبر:5774
السّلام علیکم ورحمتہ اللہ!گزارش ہے کہ چار بچوں "ایک بیٹا اور تین بیٹیاں" بچوں کے باپ یعنی اپنے شوہر کے انتقال کے بعد اس کی بیوہ گھر اپنے نام کر لے اور بیٹیوں کو کہتی رہے کہ گھر میرے بیٹے کا ہے اور اس میں تمھارا کوئی حصہ نہیں ۔مزید یہ کہ سادہ کاغذ پر کسی طرح یہ لکھوا لے اور گاہے بگاہے رشتے داروں کو بھی یہ کہتی رہے کہ گھر میرے بیٹے کا ہے اور بیٹیوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے اب اگر والدہ کا بھی انتقال ہو جائے اور گھر والدہ ہی کے نام ہو تو بیٹیوں اور بیٹے کے لیے وراثت کا حکم شرعی کیا ہے اور والدہ جو بیٹے کے لیے گھر کا کہتی رہتی تھیں اس وصیت کی اسلام میں کیا اہمیت و حیثیت ہے؟

  • سائل: محمد عمران صابری
  • تاریخ اشاعت: 28 اگست 2020ء

زمرہ: تقسیمِ وراثت

جواب:

اگر مکان شوہر کے نام تھا تو شوہر کے وصال کے بعد اُس کے ترکہ کے طور پر مکان میں سے آٹھواں حصہ بیوہ کو ملنا تھا اور بقیہ کے پانچ برابر حصے کر کے دو حصے بیٹے کو اور ایک ایک حصہ ہر بیٹی کو ملنا تھا۔ جبکہ صورتِ مسئلہ میں بیوہ نے مکمل گھر اپنے نام کر کے اور وراثت کی شرعی تقسیم سے انکار کر کے اپنے سر گناہ لیا جس کے لیے وہ خدا تعالیٰ کی عدالت میں جوابدہ ہے۔

اب اگر مکان مرحومہ بیوہ کے نام ہی ہے تو اُس کی وفات کے بعد اس کے ورثاء میں تقسیم شرعی اصولوں کے مطابق ہوگی۔ یعنی بیٹے کو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک ایک حصہ ملے گا۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ.

اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے۔

النساء، 4: 11

یہاں تک وصیت کا تعلق ہے تو حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح فرما دیا ہے کہ وارث کے حق میں کوئی وصیت قابلِ قبول نہیں۔حضرت شرحبیل بن مسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ

إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِى حَقٍّ حَقَّهُ فَلاَ وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ.

ﷲ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دیا ہے۔ لہٰذا وارث کے لئے کوئی وصیت نہیں ہے۔

  1. أحمد بن حنبل، المسند، 5: 267، رقم: 22348، مصر: مؤسسة قرطبة
  2. أبي داود، السنن، کتاب الوصایا، باب ما جاء فی الوصیة للوارث، 3: 114، رقم: 287٠، بیروت: دارالفکر
  3. ترمذي، السنن، کتاب الوصایا، باب ما جاء لا وصیة لوارث، 4: 433، رقم: 212٠، دار احیاء التراث العربي بیروت

اس لیے والدہ کی بیٹے کے حق میں کی گئی وصیت ثابت ہی نہیں ہوتی اور نا وہ شرعی طور پر قابلِ قبول ہے۔ اس پر عمل کرنا بھی خلاف شرع ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟