ہنسی مذاق اور شرارت میں دی گئی تکلیف کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:5743
السلام علیکم مفتی صاحب! میں شک، وہم اور وسوسوں کا مریض ہوں۔ ایک بات جسے میں بہت زیادہ سوچتا ہوں وہ یہ ہے کہ ایسے تمام مسلمان، ہندو اور دیگر غیر مسلم افراد جنہیں میں نے میرے بچپن میں یا پھر میرے بلوغت کے بعد جوانی میں بھی اپنے ہنسی مذاق، کھیل اور شرارت کی نیت سے تنگ کیا تھا تو اس وجہ سے اگر ان تمام افراد میں سے کسی بھی شخص کو میری شرارت سے کوئی دکھ پہنچا ہو یا چوٹ لگ گئی ہو تو اس دکھ اور چوٹ کی وجہ سے وہ شخص بیمار ہو گیا ہو اور اسی بیماری سے وہ شخص طبعی قدرتی طور پر انتقال کر گیا ہو فوت ہوگیا ہو تو کیا بروز قیامت میں ایسے افراد کی موت کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا جاؤں گا؟ مفتی صاحب پلیز یہ ضرور بتائیں کیونکہ مجھے ان افراد کی موت کے بارے میں بہت وسوسے آتے ہیں۔ مجھے گناہوں سے بہت ڈر لگتا ہے اسی لیے میں اپنی ان تمام شرارتوں پر سوچتا ہوں جو میں نے لوگوں کے ساتھ کی ہیں۔ براہ مہربانی مفتی صاحب میری رہنمائی کرتے ہوئے مجھے میرے سوال کا جواب دیجئے۔ آپکا بہت شکریہ

  • سائل: عبدالوہاب جنجوعہمقام: اسٹاک ہوم، سوئیڈن
  • تاریخ اشاعت: 21 جولائی 2020ء

زمرہ: کھیل

جواب:

دینِ اسلام فطری دین ہے، جس نے انسان کی فطری خواہش کے عین مطابق حدود و قیود کے ساتھ ہنسی مزاح کی اجازت دی ہے۔ مزاح، زندہ دلی و خوش طبعی انسانی زندگی کا ایک خوش کن عنصر ہے، اور جس طرح اس کا حد سے متجاوز ہو جانا نازیبا اور مضر ہے، اسی طرح اس لطیف احساس سے آدمی کا بالکل خالی ہونا بھی ایک نقص ہے۔ جو بسا اوقات انسان کو خشک بنا دیتا ہے۔ بسا اوقات ہمجولیوں اور ہمنشینوں اور ماتحتوں کے ساتھ لطیف ظرافت و مزاح کا برتاؤ ان کے لیے بےپناہ مسرت کے حصول کا ذریعہ اور بعض اوقات عزت افزائی کا باعث بھی ہوتا ہے۔ مزاح انسانی فطرت کا لازمہ ہے اور اس کے جواز پر بےشمار دلائل موجود ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی مزاح فرماتے تھے لیکن آپ کا مزاح بھی ایسا ہوتا کہ جس میں نا تو جھوٹ ہوتا تھا اور نا اس سے کسی کی دل آزاری ہوتی۔ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے کہ مختلف مواقع پر آپ نے خوش طبعی اور مزاح فرمایا ہے، خشک مزاجی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند نہیں تھی، آپ نہیں چاہتے تھے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے مزاج و طبیعت کو ہمیشہ خشک اور بے لذّت بنائے رکھیں۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی کبھار اپنے جاں نثاروں اور نیاز مندوں سے مزاح فرماتے تھے اور یہ ان کے ساتھ آپ کی نہایت لذت بخش شفقت ہوتی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مزاح بھی نہایت لطیف اور حکیمانہ ہوتا تھا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا، قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: فَإِنَّكَ تُدَاعِبُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا.

میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا، بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہم سے مزاح بھی فرماتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں مزاح میں بھی حق بات ہی کہتا ہوں۔

أحمد بن حنبل، المسند، 2: 340، الرقم: 8462، مصر: مؤسسة قرطبة

لیکن سوال مسؤولہ کیونکہ مزاح کے جواز و عدمِ جواز کے بارے میں نہیں بلکہ اس کی حدود کے متعلق ہے اس لیے اسی کا جواب زیرِ بحث لاتے ہیں۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ عَسَى أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَى أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيْمَانِ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَO

اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہے وہ لوگ اُن (تمسخر کرنے والوں) سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں ہی دوسری عورتوں کا (مذاق اڑائیں) ممکن ہے وہی عورتیں اُن (مذاق اڑانے والی عورتوں) سے بہتر ہوں، اور نہ آپس میں طعنہ زنی اور الزام تراشی کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کے برے نام رکھا کرو، کسی کے ایمان (لانے) کے بعد اسے فاسق و بدکردار کہنا بہت ہی برا نام ہے، اور جس نے توبہ نہیں کی سو وہی لوگ ظالم ہیں۔

الْحُجُرَات، 49: 11

جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزاح کے آداب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

لَا تُمَارِ أَخَاكَ، وَلَا تُمَازِحْهُ، وَلَا تَعِدْهُ مَوْعِدًا فَتُخْلِفَهُ.

اپنے بھائی کو ہنسی مذاق کر کے ناراض نہ کرو اور اسے اذیت نہ دو، اور نہ اس سے وعدہ کر کے وعدہ خلافی کرو۔

  1. ترمذي، السنن، كتاب: البر والصلة، باب: ما جاء في المراء، 4: 359، الرقم: 1995، بيروت: دار إحياء التراث العربي
  2. هندي، كنزالعمال، 3: 255، الرقم: 8297، بيروت: دار الكتب العلمية

درج بالا آیت و روایت سے معلوم ہوا کہ ایسی دل لگی اور مزاح جس میں کسی دل شکنی اور ایذاء رسانی کا کوئی پہلو نہ ہو اور نہ اس کی نیت ہو تو شریعت میں تفریح طبع کے طور پر اس کی اجازت ہے۔ اس کے برعکس ایسا مزاح جس میں طنز کرنے، مذاق اڑانے، عزتِ نفس مجروح کرنے، فحش گالیاں دینے، فحش گوئی کرنے وغیرہ کی پہلو شامل ہوں‘ شرعِ اسلامی میں ممانعت ہے اور اس کا مرتکب گناہگار ہے۔ اگر کوئی شخص درج بالا ممنوع امور کا مرتکب ہوا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہیے، اس کے مزاح سے جن لوگوں کی دل آزاری ہوئی ہے اگر وہ زندہ ہیں تو ان سے بھی معافی مانگی جائے اور ان میں سے جو فوت ہو چکے ہیں ان کا معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دے۔ آئندہ ایسے مزاح سے اجتناب کرے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟