کیا مسجد یا مدرسہ کی تعمیر پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے؟

سوال نمبر:5742
کیا مناسب تملیک کرنے کے بعد زکوٰۃ کی رقم سے درج ذیل کام کیے جا سکتے ہیں: (1) مسجد یا مدرسے کی زمین خریدنا؟ (2) مسجد یا مدرسے کی تعمیر کا سامان خریدنا؟

  • سائل: وقاص ارشدمقام: راولپنڈی
  • تاریخ اشاعت: 13 جولائی 2020ء

زمرہ: زکوۃ

جواب:

اول تو یہ کہ زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کی کامل ادائیگی کیلئے لازم ہے کہ ان کا مصرف قرآنِ مجید میں بیان کردہ مصارف میں سے ہو اور اسے بغیر کسی عوض کے مالک بنایا جائے، جبکہ مسجد ان مصارف میں شامل نہیں ہے۔ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ مسجد خالص شعائر اسلام میں سے ہے اور زکوٰہ مال کا میل کچیل ہے، اس لیے مسجد پر اپنے مال کی میل کچیل خرچ کرنے کی بجائے اصل مال سے عطیہ کیا جانا چاہیے۔ لہٰذا زکوٰۃ کی رقم مسجد کی تعمیر و مرمت اور آبادکاری پر خرچ کرنے فقہاء کرام نے اجات نہیں دی البتہ نفلی صدقات اور عطیات مسجد کی ضروریات میں صرف کیے جاسکتے ہیں۔

مدرسہ کی زمین خریدنے یا تعمیر کے لیے زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کی رقوم خرچ کی جاسکتیں ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟