اللہ کے صفاتی اسماء پر رکھے گئے ناموں کو عبد کی اضافت کے بغیر پکارنا کیسا ہے؟

سوال نمبر:5703
اگر کسی کا نام اللّٰہ کے صفات کے ساتھ رکھا گیا ہو جیسے عبدالمعبود یا عبدالسّتار تو کیا عبد کو چھوڑ کر صرف ستار یا معبود کہہ کر پکارنا جائز ہے یا نہیں ؟

  • سائل: عبد العلیممقام: انڈیا
  • تاریخ اشاعت: 10 جولائی 2020ء

زمرہ: اسلامی نام

جواب:

جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ ذات کے اعتبار سے واحد اور یکتا ہے اسی طرح اسماء کے اعتبار سے بھی واحد اور یکتا ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس میں کوئی اس کا شریک نہیں اور وہ شرک سے پاک ہے اس طرح اس کے خاص اسماء میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّاo

’’(وہ) آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دو کے درمیان ہے (سب) کا رب ہے۔ پس اس کی عبادت کیجئے اور اس کی عبادت میں ثابت قدم رہیے۔ کیا آپ اس کا کوئی ہم نام جانتے ہیں؟‘‘

مریم، 19: 65

اسمائے الٰہیہ کی دو اقسام ہیں:

  1. ذاتی اسماء
  2. صفاتی اسماء

’اللہ‘ رب العالمین کی ذات بابرکت کا اسم ذات یا ذاتی اسم ہے، جو ’اسمِ جلالت‘ کہلاتا ہے۔ کوئی اور ذات اس نام سے منسوب نہیں۔ اس کا نہ تثنیہ ہے اور نہ ہی جمع۔

اللہ تعالیٰ کے صفاتی اسماء کی مزید دو اقسام ہیں:

1۔ وہ صفات جو خالق اور مخلوق دونوں کے درمیان مشترک (Common) ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے لئے کسی اور معنی میں ہوتی ہیں اورمخلوق کے لئے کسی اور معنی میں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ اسماء و صفات اس کی شان اور اس کے حال کے مطابق ہیں جبکہ مخلوق کے لئے ان کے حسبِ حال یہ صفات محدود، متناہی اور عطائی ہیں۔ جیسے شاہد، غنی، رؤوف، حمید، سمیع، طاہر، بصیر، جلیل، رحیم، علیم، رشید، علی، کریم، عزیز وغیرہ کا استعمال قرآن و حدیث میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ بندوں کے لیے بھی ہوا ہے۔ اس لیے یہ صفاتی نام ’عبد‘ کی اضافت کے ساتھ بھی اور اضافت کے بغیر بھی بندوں کے لیے رکھے جاسکتے ہیں۔ یہ اسماء و صفات اگرچہ خالق و مخلوق دونوں کے لئے بیان ہوئی ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ سمیع و بصیر ہے اور انسان بھی سمیع و بصیر، مگر اللہ تعالیٰ کے لئے یہ اور معنیٰ میں ہے اور مخلوق کے لئے دوسرے معنیٰ میں۔

2۔ وہ صفات جو اللہ رب العزت کے لئے خاص ہیں اور ان کا اثبات فقط اللہ تعالیٰ کے لئے ہی کیا جاسکتا ہے، ان سے مشتق صفاتی اسماء غیراللہ کے لیے نہ رکھے جاسکتے ہیں اور نہ پکارے جاسکتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ اِلٰـہ (معبود) اس میں کسی کا اشتراک نہیں، وہ بدیع السموات والارض اور فاطر السموات والارض ہے پوری کائنات کا خالق اور اسے عدم سے وجود میں لانے والا ہے۔ اس میں کسی کا کوئی اشتراک نہیں۔ وہ سبحان ہے اور کائنات کی ہر شے اس کی پاکیزگی بیان کرتی ہے۔ وہی رازقِ حقیقی ہے۔ وہی حقیقۃً مالک نفع و ضرر ہے، اسی پر سب کا توکل ہے، یہ بھی اس کا خاصہ ہے اس میں کوئی شریک نہیں مخلوق کے لئے توسل ہے اور خالق پر توکل، وہی دعاؤں کو سننے والا اور قبول فرمانے والا ہے۔ اس کی صفت رحمان ہے، یہ صفت کسی اور کے لئے جائز نہیں جبکہ رحیم مخلوق کے لئے جائز ہے۔

گویا معبود، خالق، سبحان، رزّاق، ، غفار خالص اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں اور یہ اسماء بھی اس کے ساتھ خاص ہیں، اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کو ان اسماء سے موسوم نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے اسمِ جلالت یا اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جو اس کے ساتھ خاص ہیں ان میں سے کوئی نام بندوں کے لیے رکھا جائے گا تو اس کے ساتھ ’عبد‘ کی اضافت کی جائے گی۔ جیسے: عبد اللہ، عبد المعبود، عبدالخالق، عبد الغفار، عبد الستار، عبد الرزاق، عبد الرحمان وغیرہ۔ ایسا نام رکھنے والے کو لاعلمی یا لاپروائی کی بنا پر ’عبد‘ کی اضافت کے بغیر معبود، خالق، غفار، ستار، رزاق یا رحمان پکارنا جائز نہیں، جان بوجھ کر ایسا کرنا گناہِ کبیرہ ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟