اگر بیٹی نے والدین کے ترکہ سے حصہ نہیں مانگا تو کیا اس کا حصہ ختم ہوگیا؟

سوال نمبر:5688
السلام علیکم! عرض ہے کہ اگر بہن نے اپنی زندگی میں اپنے والد اور بھائی سے جائیداد میں اپنے حصے کی کوئی بات نہیں کی اور بھائی نے کبھی فرمائش بھی نہیں کی۔ بہن کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے اور پوتے حصے کے لیے عدالت میں جاتے ہیں اور پورا کیس لڑاتے ہیں۔ اس کا حکم کیا ہے؟ جبکہ بہن کے زندگی میں اپنے بھائی سے اچھے تعلقات تھے۔ اب نہ وہ اس دنیا میں ہے اور نہ بھائی زندہ ہے۔

  • سائل: گل ودودمقام: مردان
  • تاریخ اشاعت: 08 جولائی 2020ء

زمرہ: تقسیمِ وراثت

جواب:

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

لِّلرِّجَالِ نَصيِبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا.

مردوں کے لئے اس (مال) میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے (بھی) ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے ترکہ میں سے حصہ ہے۔ وہ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ (اللہ کا) مقرر کردہ حصہ ہے۔

النساء، 4: 7

درج بالا آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ترکہ میں تمام اولاد کو شامل کیا ہے اور مرد و زن کی بنیاد پر اس میں کوئی تفریق نہیں کی۔ تقسیمِ ترکہ کا اصول بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ.

اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے۔

النساء، 4: 11

اس لیے مسئلہ ہٰذا میں اگر والدین کے ترکہ سے ان کی بیٹی نے حصے کا مطالبہ نہیں کیا تھا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا حصہ تھا نہیں یا مطالبہ نہ کرنے پر اس کا حصہ ختم ہوگیا۔ اگر بیٹی کی زندگی میں اسے والدین کے ترکہ سے حصہ نہیں دیا گیا تو اب اس کی اولاد کو ملے گا اور اُس کی اولاد مطالبہ کا حق رکھتی ہے۔ اسی حق کی بنیاد پر مرحومہ کا بیٹا اپنی والدہ کے حصے کا مطالبہ کر رہا ہے، اسے یہ حق ملنا چاہیے اور اگر وہ بذریعہ عدالت اپنی والدہ کا حصہ لینے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے لیے جائز ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟