Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - 29 شعبان المعظم کو اگر چاند نظر نہ آئے تو کیا کسی کے لئے 30 شعبان المعظم کو روزہ رکھنا جائز ہے؟

29 شعبان المعظم کو اگر چاند نظر نہ آئے تو کیا کسی کے لئے 30 شعبان المعظم کو روزہ رکھنا جائز ہے؟

موضوع: روزہ  |  عبادات

سوال نمبر 547:
29 شعبان المعظم کو اگر چاند نظر نہ آئے تو کیا کسی کے لئے 30 شعبان المعظم کو روزہ رکھنا جائز ہے؟

جواب:

:  اگر کوئی شخص کسی خاص دن کے روزے کا عادی ہو اور اس تاریخ (30 شعبان) کو وہ دن آجائے مثلاً ایک شخص ہر پیر کو روزہ رکھتا ہے اور 30 شعبان کو پیر ہو تو وہ اپنے اسی نفلی روزہ کی نیت کر سکتا ہے۔ حدیث مبارکہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمای :  ’’رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، ہاں جس آدمی کی عادت اس دن روزہ رکھنے کی ہو وہ رکھ سکتا ہے۔‘‘

مسلم، الصحيح، کتاب الصيام، باب لا تقدموا رمضان بصوم يوم ولا يومين، 2 : 762، رقم :  1082

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments