Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا حصولِ ویزا کے لیے دی گئی فرضی طلاق واقع ہوگی؟

کیا حصولِ ویزا کے لیے دی گئی فرضی طلاق واقع ہوگی؟

موضوع: طلاق مغلظہ(ثلاثہ)

سوال پوچھنے والے کا نام: شیخ بلال       مقام: برطانیہ

سوال نمبر 5416:
السلام علیکم! اگر کوئی برطانوی ویزا کے لیے سٹام پیپرز پر فرضی طلاق ثلاثہ لکھتا ہے تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی؟ اگر طلاق واقع ہوئی ہے تو رجوع کا کیا حکم ہوگا؟

جواب:

اگر کوئی شخص بقائمِ ہوش و ہواس اپنی بیوی کو طلاق دے‘ خواہ زبانی ہو یا تحریری‘ واقع ہو جاتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

ثَلاَثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ النِّكَاحُ وَالطَّلاَقُ وَالرَّجْعَةُ.

تین چیزیں ایسی ہیں کہ ارادہ کے ساتھ کی جائیں یا مذاق میں کی جائیں (دونوں صورتوں میں) صحیح مراد ہیں: نکاح، طلاق اور رجوع۔

  1. أبو داود، السنن، كتاب الطلاق تفريع أبواب الطلاق، باب في الطلاق على الهزل، 2: 259، رقم: 2194، بيروت: دار الفكر
  2. ترمذي، السنن، كتاب الطلاق واللعان، باب ما جاء في الجد والهزل في الطلاق، 3: 490، رقم: 1184، بيروت: دار إحياء التراث العربي

اس لیے ویزا کے حصول کی خاطر بیوی کو فرضی طلاق ثلاثہ لکھ کر دینے سے بھی تین طلاق واقع ہو جائیں گی اور طلاقِ ثلاثہ کے بعد رجوع کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2019-05-15


Your Comments