Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا جوتے پر جوتا آنا یا جوتا الٹا ہونے میں‌ نحوست ہے؟

کیا جوتے پر جوتا آنا یا جوتا الٹا ہونے میں‌ نحوست ہے؟

موضوع: شوم و نحوست

سوال پوچھنے والے کا نام: احمد       مقام: لاہور

سوال نمبر 5388:
السلام علیکم مفتی صاحب! میرے چند سوالات ہیں: جوتی پر جوتی آنے، جوتا الٹا ہونے، ٹانگ پر ٹانگ رکھنے کو ہمارے یہاں‌ نحوست سمجھا جاتا ہے‘ اس بارے اسلام کیا کہتا ہے؟ اسی طرح نظر اتارنے کے لیے مرچیں وار کر جلائی جاتی ہیں‌ ان کی کیا حیثیت ہے؟ کچھ لوگ صدقہ کے طور پر انڈہ سر سے وار کر پھینکتے ہیں‘ اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:

آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:

  1. جوتے پر جوتا آنا یا جوتے کا الٹا ہونا آداب کے خلاف ہے اور کوئی بھی نفاست پسند انسان اس طرح پڑے جوتے کو دیکھنا اچھا نہیں سمجھتا۔ اسی طرح ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنا آدابِ مجلس کے خلاف ہے اور خاص طور پر بڑوں کے سامنے اس انداز سے بیٹھنا بدتہذیبی خیال کیا جاتا ہے۔ یہ امور تہذیب و شائستگی کے خلاف ہیں لیکن ان کو نحوست قرار دینا یا ان سے بدشگونی لینا درست نہیں۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے: بدشگونی لینا کیسا ہے؟
  2. نظر بد لگنا برحق ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا روحانی علاج بھی تفویض کیا ہوا ہے۔ اس لیے مرچیں جلانے یا انڈہ پھینکنے کی بجائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل پیرا ہونا چاہیے‘ اسی میں ہماری فلاح ہے۔ نظر بد کے متعلق مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے: نظرِ بد کی حقیقت کیا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2019-05-09


Your Comments