مسلمان ملک کے خلاف غیرمسلم افواج میں‌ شامل مسلمان ہلاک ہے یا شہید؟

سوال نمبر:5375
السلام علیکم مفتی صاحب! غیرمسلم ممالک میں‌ مقیم مسلمان نوجوان اگر ان ممالک کی افواج میں‌ بھرتی ہوتے ہیں‌ اور ان کی لڑائی کسی مسلمان ملک کے خلاف ہوتی ہے اور یہ جوان اس لڑائی میں مارے جاتے ہیں‌ تو کیا شرعاً انہیں‌ شہید مانا جائے گا؟

  • سائل: اللہ بخشمقام: گجرات
  • تاریخ اشاعت: 29 جون 2019ء

زمرہ: شہید کے احکام

جواب:

حقیقی شہید وہ مسلمان ہے جو جبر (oppression)، جارحیت (aggression)، ظلم (Tyranny) اور باطل کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جان قربان کر دے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَ.

اور جو لوگ اﷲ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مت کہا کرو کہ یہ مُردہ ہیں، (وہ مُردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں (ان کی زندگی کا) شعور نہیں۔

البقرة، 2: 154

دوسرے مقام پر فرمایا:

وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ.

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں انہیں ہرگز مردہ خیال (بھی) نہ کرنا، بلکہ وہ اپنے ربّ کے حضور زندہ ہیں انہیں (جنت کی نعمتوں کا) رزق دیا جاتا ہے۔

آل عِمْرَان، 3: 169

یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے جان قربان کرنے والے ہی شہیدِ حقیقی ہیں۔ ارشادِ ربانی ہے:

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُواْ وَالَّذِينَ هَاجَرُواْ وَجَاهَدُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ أُوْلَـئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللّهِ وَاللّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ.

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اﷲ کے لئے وطن چھوڑا اور اﷲ کی راہ میں جہاد کیا، یہی لوگ اﷲ کی رحمت کے امیدوار ہیں، اور اﷲ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

البقرة، 2: 218

کلمہ حق کی سربلندی کے لیے دشمن سے لڑنا اللہ تعالیٰ کی راہ ہے۔ حدیثِ مبارکہ ہے:

عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلذِّكْرِ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ، فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ العُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوا کہ کوئی مال غنیمت کے لیے لڑتا ہے، کوئی اپنی ناموری کے لیے، کوئی اپنی جواں مردی دکھانے کے لیے، تو ان میں سے اللہ کی راہ میں لڑنے والا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا وہ ہے جو کلمہ حق کی سربلندی کے لیے لڑتا ہے۔

  1. بخاري، الصحيح، كتاب الجهاد والسير، باب من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا، 3: 1034، رقم: 2655، بيروت: دار ابن كثير اليمامة
  2. مسلم، الصحيح، باب من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا فهو في سبيل الله، 3: 1513، رقم: 1904، بيروت: دار إحياء الترث العربي

جبکہ عصبیت کی خاطر لڑنے والا شہید نہیں بلکہ جاہلیت کی موت مرتا ہے جیسا کہ درج ذیل احادیث مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ، وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ، أَوْ يَدْعُو إِلَى عَصَبَةٍ، أَوْ يَنْصُرُ عَصَبَةً، فَقُتِلَ، فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ، وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي، يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا، وَلَا يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا، وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدٍ عَهْدَهُ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص (حاکم کی) اطاعت سے نکل جائے اور جماعت کو چھوڑ دے تو وہ جاہلیت کی موت مرا اور جو شخص اندھی تقلید میں کسی کے جھنڈے تلے جنگ کرے یا کسی عصبیت کی بناء پر غضب ناک ہو یا عصبیت کی طرف دعوت دے یا عصبیت کی خاطر جنگ کرے اور مارا جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا اور جس شخص نے میری امت پر خروج کیا اور اچھوں اور بروں سب کو قتل کیا، کسی مومن کا لحاظ نہیں کیا نہ کسی سے کیا ہوا عہد پورا کیا وہ میرے دین پر نہیں ہے اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔

مسلم، الصحيح، كتاب الإمارة، باب وجوب ملازمة جماعة المسلمين عند ظهور الفتن وفي كل حال وتحريم الخروج على الطاعة ومفارقة الجماعة، 3: 1476، رقم: 1848

اسی طرح ایک اور روایت ہے:

عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ، يَدْعُو عَصَبِيَّةً، أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً، فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ.

حضرت جندب بن عبداللہ بجلی روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اندھی تقلید میں کسی کے جھنڈے تلے مارا گیا، جو عصبیت کی دعوت دیتا تھا اور عصبیت کی مدد کرتا تھا، اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔

مسلم، الصحيح، كتاب الإمارة، باب وجوب ملازمة جماعة المسلمين عند ظهور الفتن وفي كل حال وتحريم الخروج على الطاعة ومفارقة الجماعة، 3: 1478، رقم: 1450

مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ جو مسلمان ظلم و عدوان، جبر و ناانصافی اور جارحیت کے خلاف لڑتا ہوا مارا جائے وہ خدا تعالیٰ کے حضور شہید کا درجہ پاتا ہے وہ چاہے کسی بھی گروہ یا ملک کی طرف سے ہو اور جو شخص ظلم و زیادتی اور جارحیت میں کسی قوم کا ساتھ دیتے ہوئے مارا جائے وہ ہلاکت کا شکار ہوتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟