Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - وقت کی قلت کے پیشِ‌ نظر وضو کی بجائے تیمم کرنا کیسا ہے؟

وقت کی قلت کے پیشِ‌ نظر وضو کی بجائے تیمم کرنا کیسا ہے؟

موضوع: تیمم

سوال پوچھنے والے کا نام: قاری شمس       مقام: ملتان

سوال نمبر 5367:
السلام علیکم! وضو کے لئے جگہ کم اور وقت کی قلت ہو تو کیا تیمم کیا جاسکتا ہے؟

جواب:

نماز پنجگانہ کی ادائیگی کے لیے پانی ہوتے ہوئے صرف وقت کی قلت کے پیشِ نظر تیمم کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر غیر ولی نمازِ جنازہ میں شریک ہونا چاہے اور وضو کر کے جنازے میں شامل ہونا ممکن نہ ہو تو تیمم کر کے جنازے میں شامل ہوسکتا ہے کیونکہ نمازِ جنازے کی قضاء نہیں ہوتی۔ نمازِ پنجگانہ کا معاملہ مختلف ہے۔ ان میں قضاء کی جاسکتی ہے۔ اس لیے نمازِ پنجگانہ میں پانی کی موجودگی کے باوجود وقت کی قلت کے پیشِ نظر وضو کو ترک نہیں کیا جاسکتا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2019-04-29


Your Comments