کیا آئمہ اہلبیت کے جشنِ‌ ولادت منانا جائز ہے؟

سوال نمبر:5362
السلام علیکم! اھل سنت کے ایک عالم دین کا کہنا تھا کہ جشن صرف حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا منانا جائز ہے باقی سب جشن (جشن ولادتِ‌ امام حسین علیہ السلام، جشنِ ولادتِ غازی عباس علمدار علیہ السلام، جشنِ مولودِ کعبہ) خلاف شریعت ہیں؟ کیا ان کا یہ موقف یا فتوی درست ہے؟

  • سائل: فضہ بتولمقام: گجر خان
  • تاریخ اشاعت: 27 اپریل 2019ء

زمرہ: فضائل و مناقبِ‌ اہلبیتِ اطہار

جواب:

جشن کا معنیٰ خوشی، خوشی کی محفل اور عید وغیرہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اہلِ بیت و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی کی ولادت کی خوشی منا کر اور ان کی بلندئ درجات کے لیے دعائیں کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس کے خلافِ شریعت ہونے کے لیے دلیلِ شرعی ہونا ضروری ہے، جبکہ ان کے جشن کی شرعی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس لیے جن ہستیوں کی ولادت کا جشن منانے کے بارے میں آپ نے دریافت کیا ہے ان کی ولادت کی خوشی منانے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟