Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا نماز میں‌ دنیاوی خیالات سے بچنے کے لیے نماز کا ترجمہ سوچنا جائز ہے؟

کیا نماز میں‌ دنیاوی خیالات سے بچنے کے لیے نماز کا ترجمہ سوچنا جائز ہے؟

موضوع: نماز

سوال پوچھنے والے کا نام: عرفان ممتاز       مقام: کراچی، پاکستان

سوال نمبر 5332:
السلام علیکم مفتی صاحب! نماز میں دنیا کے خیالات آتے رہتے ہیں ان سے بچنے کے لئے ثناء، سورۃ فاتحہ یا کسی بھی سورۃ کو عربی زبان کے اشاروں میں سوچنے اور ذہن میں لانا جائز ہوگا یا نہیں؟ اور مستحق ثواب ہوں گے یا نہیں؟

جواب:

نماز کے دوران دنیاوی خیالات سے بچنے کے لیے نماز ترجمہ کے ساتھ یاد کریں اور اشاروں میں سوچنے کی بجائے الفاظ کے معانی ذہن میں ہونے چاہئیں۔ نماز میں الفاظ کی ادائیگی ضروری ہے صرف سوچنے سے نماز ادا نہیں ہوتی۔ اس لیے صرف الفاظ کو سوچ کر ذہن میں لانے سے نماز نہ ہوگی۔ مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

کیا نماز میں دنیاوی خیالات کا آنا اسکی عدم قبولیت کی علامت ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2019-04-27


Your Comments