Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اشاراتی زبان میں‌ قرآن مجید کی درس و تدریس کرنا کیسا ہے؟

اشاراتی زبان میں‌ قرآن مجید کی درس و تدریس کرنا کیسا ہے؟

موضوع: تلاوت‌ قرآن‌ مجید

سوال پوچھنے والے کا نام: عرفان ممتاز       مقام: کراچی، پاکستان

سوال نمبر 5284:
السلام علیکم جناب مفتی صاحب! کیا اشاروں کی زبان میں قرآن بنانا صحیح ہے یا نہیں؟

جواب:

قوتِ سماعت و گویائی سے محروم افراد کے لیے قرآن مجید کا متن اشاروں کی زبان میں سمجھانا یا اس کا ترجمہ و تفسیر اشاروں کی زبان میں تیار کرنا نہایت قابلِ تحسین کام ہے۔ ایسے لاکھوں مسلمان ہیں‌ جو پیدائشی طور پر یا کسی حادثے کے سبب سماعت و گویائی سے محروم ہو جاتے ہیں‌۔ ان کے تعلیم و تربیت کے لیے ادارے (Special Schools) قائم ہیں جہاں‌ ان کو اشاراتی زبان (Sign language) میں‌ بنیادی تعلیم سے لیکر اعلیٰ‌ تعلیم تک پڑھنے کی سہولت دی جاتی ہے اور یہ اسی زبان میں‌ روزمرہ زندگی کے امور بھی انجام دیتے ہیں۔ ایسی سہولت کے ہوتے ہوئے ان افراد کو اسلامی تعلیمات اور خاص طور پر کتابِ مبین کی تعلیم سے محروم کیونکر رکھا جاسکتا ہے؟ اس لیے جو لوگ ان معذور افراد کو اشاراتی زبان میں‌ قرآنی تعلیمات سے آشنا کر رہے ہیں‌ وہ نہ صرف تبلیغِ دین کا فریضہ انجام دے رہے ہیں بلکہ عنداللہ ماجور بھی ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2019-03-31


Your Comments