کیا ‌‌عربوں کو دیگر اقوام پر افضیلت حاصل ہے؟

سوال نمبر:5283
السلام علیکم! میں نے یہاں پر بعض عربوں کو کہتے سنا ہے کہ احادیث میں عرب کو باقی تمام اقوام پر فضیلت بخشی گئی ہے، یہ بات کہاں تک درست ہے؟ وضاحت فرمائیں۔

  • سائل: ماجد بخاریمقام: دبئی
  • تاریخ اشاعت: 31 مارچ 2019ء

زمرہ: معاشرت

جواب:

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے فضیلت کا معیار تقویٰ و پرہیزگاری پر رکھا ہے‘ کسی قوم و قبیلہ سے تعلق یا کسی خطے میں سکونت کی بنیاد پر نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌo

اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بے شک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بے شک اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے۔

الحجرات، 49: 13

اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا:

إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَأَبَاكُمْ وَاحِدٌ، وَلَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَا أَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى.

بےشک تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ (آدم علیہ السلام) ایک ہے۔ کسی عربی کو غیر عرب پر اور کسی غیر عرب کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور کسی سفید فام کو سیاہ فام پر اور نہ سیاہ فام کو سفید فام پر فضیلت حاصل ہے۔ سوائے تقویٰ کے۔

طبراني، المعجم الأوسط، 5: 86، القاهرة: دارالحرمين

لہٰذا عند اللہ فضیلت اُسی کی ہے جو زیادہ پرہیزگار اور متقی ہے خواہ وہ کسی بھی قوم وقبیلہ یا علاقہ سے ہو۔ عربوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محبت کرنے کا ضرور فرمایا ہے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

أُحِبُّوا الْعَرَبَ لِثَلَاثٍ: لِأَنِّي عَرَبِيٌّ، وَالْقُرْآنُ عَرَبِيٌّ، وَكَلَامُ أَهْلِ الْجَنَّةِ عَرَبِيٌّ.

تین باتوں کی وجہ سے عرب سے محبت کرو: میں عربی ہوں، قرآن عربی میں ہے اور اہل جنت کی زبان عربی ہو گی۔

  1. حاکم، المستدرک علی الصحیحین، فضل كافة العرب، 4: 97، رقم: 6999، بیروت: دار الکتب العلمیة
  2. طبراني، المعجم الکبیر، 11: 185، رقم: 11441، الموصل: مکتبة الزهراء
  3. هیثمي، مجمع الزوائد، 10: 52، بیروت، القاهرة: دار الکتاب

درج بالا آیات و روایات سے واضح ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں فضیلت اسی کو حاصل ہوگی جو ایمان اور عملِ صالح پر کاربند ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعلق عرب سے ہے‘ کلامِ خداوندی عربی زبان میں نازل ہوا اور اس کے اولین مخاطب عرب تھے، ان تمام اسباب و وجوہ کی بناء پر اہل عرب کا ادب و احترام کرنا اور عربی زبان و ادب سے محبت کرنا بلاشبہ ایک مسلمان کا شیوہ ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ کا قرب اور اس کے فضیلت کی بنیاد زہد و ورع، تقویٰ و پاکیزگی، عبادت و ریاضت اور مخلوقِ خدا کی خدمت میں ہے، عربی و عجمی ہونے پر نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟