کیا والدین اولاد کے مال میں ازخود لینے کا حق رکھتے ہیں؟

سوال نمبر:5270
السلام علیکم سر! اگر والدین بڑھاپے میں ملازمت نہیں کرسکتے، بچے برسرِ روزگار ہوں تو ان کی کمائی سے گھر کے اخراجات کے لئے والد کا لینا صحیح ہے یا والدہ کا؟

  • سائل: راجہ عتیق الر حمنمقام: اسلام آباد
  • تاریخ اشاعت: 19 اپریل 2019ء

زمرہ: والدین کے حقوق

جواب:

جس طرح والدین اپنے بچوں کو پال کر جوان کرتے ہیں اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے محنت و مشقت کرتے ہیں اسی طرح اولاد کا فرض ہے کہ بڑھاپے میں والدین کی خدمت کریں اور ان کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌo

آپ سے پوچھتے ہیں کہ (اﷲ کی راہ میں) کیا خرچ کریں، فرما دیں: جس قدر بھی مال خرچ کرو (درست ہے)، مگر اس کے حق دار تمہارے ماں باپ ہیں اور قریبی رشتہ دار ہیں اور یتیم ہیں اور محتاج ہیں اور مسافر ہیں، اور جو نیکی بھی تم کرتے ہو بے شک اﷲ اسے خوب جاننے والا ہے۔

البقرة، 2: 215

آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے باقی اخراجات کی بجائے والدین کے حق کو ترجیح دے کر والدین پر مال خرچ کرنے کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔ اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا:

يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: «أُمُّكَ» قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ أُمُّكَ» قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ أُمُّكَ» قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ أَبُوكَ».

یا رسول اللہ! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری والدہ۔ عرض کی کہ پھر کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری والدہ۔ عرض کی کہ پھر کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری والدہ۔ عرض کی کہ پھر کون ہے؟ فرمایا کہ تمہارا والد ہے۔

  1. بخاري، الصحيح، كتاب الأدب، باب من أحق الناس بحسن الصحبة، 5: 2227، رقم: 5626، بيرروت: دار ابن كثير اليمامة
  2. مسلم، الصحيح، كتاب البر والصلة والآداب، باب بر الوالدين وأنهما أحق به، 4: 1974، رقم: 2548، بيروت: دار إحياء التراث العربي

اور حضرت عمرو بن شعیب کے والد ماجد نے اپنے والد محترم سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوا: یا رسول اللہ! میرے پاس مال ہے اور اولاد بھی ہے اور میرے والد محترم میرے مال کے محتاج ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ، إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ، فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ.

تم اور تمہارا مال سب تمہارے والد کا ہے۔ تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی سے ہے۔ لہٰذا تم اپنی اولاد کی کمائی سے کھا سکتے ہو۔

  1. أبو داود، السنن، كتاب الإجارة، باب في الرجل يأكل من مال ولده، 3: 289، بيروت: دارالفكر
  2. ابن ماجه، السنن، كتاب التجارات، باب ما للرجل من مال ولده، 2: 769، رقم: 2292، بيروت: دارالفكر

اسی طرح حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض گزار ہوا: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس مال ہے اور اولاد بھی، اور میرے والد محترم کو میرے مال کی ضرورت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ.

تو اور تیرا مال، تیرے باپ کا ہے۔

ابن ماجه، السنن، كتاب التجارات، باب ما للرجل من مال ولده، 2: 769، رقم: 2291

اس لیے بوڑھے والدین کو اپنی گھریلو ضروریات کے لیے اولاد سے مانگنے کی نوبت تک نہ آنے دیں۔ والدین یا ان دونوں میں سے کوئی ایک اپنی اولاد کے مال میں سے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے لینا چاہے تو انہیں اس کا شرعی، اخلاقی اور سماجی حق حاصل ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟