Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا سودی رقوم کا صدقہ کیا جاسکتا ہے؟

کیا سودی رقوم کا صدقہ کیا جاسکتا ہے؟

موضوع: صدقات   |  سود

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد ایوب مطہر       مقام: سکردو

سوال نمبر 5249:
کیا سودی سسٹم سے حاصل منافع میں سے کسی کو عمرہ کے لئے رقم دینا جائز ہے؟

جواب:

بینکوں سے حاصل شدہ سودی رقوم غرباء و مساکین پر صدقہ کی جاسکتی ہیں، کسی مقروض کے قرض کی ادائیگی میں استعمال کی جاسکتی ہیں، رفاہی کاموں‘ جیسے: سڑک، کنواں، مسافرخانہ، نل، نہر، پل کی تعمیر میں میں صَرف کی جاسکتی ہیں، کسی مستحق خواہش مند کو اس سے حج و عمرہ کروایا جاسکتا ہے اور کسی غریب مرض کو علاج معالجہ کے لیے بھی دی جاسکتی ہیں‘ تاہم اس صدقہ و خیرات پر ثواب اور اجر کی امید نہ رکھی جائے۔ دینے والا اسے صرف حرام مال کے وبال سے بچنے کی نیت سے دے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

تاریخ اشاعت: 2019-01-28


Your Comments