Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - ضعف کے سبب روزہ نہ رکھنے کا فدیہ کیا ہے؟

ضعف کے سبب روزہ نہ رکھنے کا فدیہ کیا ہے؟

موضوع: روزہ

سوال پوچھنے والے کا نام: وجاہت بیگ ہاشمی       مقام: سندھ

سوال نمبر 5228:
90 سال کی عمر میں روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اگر روزہ نہ رکھے تو کیا کفارہ ہے؟

جواب:

اگر کوئی شخص بڑھاپے اور ضعف کی وجہ سے لاغر ہے یا کسی ایسی بیماری کا شکار ہے جس سے صحتیابی کی امید نہیں تو ایسے شخص پر روزے کا فدیہ ادا کرنا واجب ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ وَأَن تَصُومُواْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ.

(یہ) گنتی کے چند دن (ہیں)، پس اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کر لے، اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو ان کے ذمے ایک مسکین کے کھانے کا بدلہ ہے، پھر جو کوئی اپنی خوشی سے (زیادہ) نیکی کرے تو وہ اس کے لئے بہتر ہے، اور تمہارا روزہ رکھ لینا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تمہیں سمجھ ہو۔

البقره، 2: 184

ایسا شخص ہر روزے کے فدیہ میں دو کلو گندم یا گندم کا آٹا یا چار کلو جو، کھجور یا کشمش کسی غریب‘ مسکین کو دے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2019-01-29


Your Comments