Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - تحیۃ الوضوء سے کیا مراد ہے اور کب ادا کی جاتی ہے؟

تحیۃ الوضوء سے کیا مراد ہے اور کب ادا کی جاتی ہے؟

موضوع: عبادات  |  عبادات

سوال نمبر 516:
تحیۃ الوضوء سے کیا مراد ہے اور کب ادا کی جاتی ہے؟

جواب:

وضو کرنے کے بعد دو رکعت نماز نفل ادا کرنے کو تحیۃ الوضو کہتے ہیں۔ ان دو رکعتوں میں سورۃ الکافرون اورسورۃ الاخلاص پڑھنا مستحب ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خادم حمران بیان کرتے ہیں :

’’حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کے لیے پانی منگوایا اور وضو کرنا شروع کیا، پہلے اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر تین بار اپنے چہرے کو دھویا، پھر دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا پھر اسی طرح بایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر دایاں پیر ٹخنوں تک تین بار دھویا، پھر اسی طرح بایاں پاؤں تین بار دھویا، پھر انہوں نے کہا جس طرح میں نے وضو کیا ہے اس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ وضو کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص میرے اس طریقہ کے مطابق وضو کرے پھر دو رکعت نماز پڑھے اور دورانِ نماز سوچ بچار نہ کرے تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔‘‘

مسلم، الصحيح، کتاب الطهارة، باب صفة الوضوء وکماله، 1 : 204. 205، رقم : 226

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments