Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا ایک سفر میں دو سے زائد عمرے جائز نہیں؟

کیا ایک سفر میں دو سے زائد عمرے جائز نہیں؟

موضوع: عمرہ   |  عمرہ کے احکام

سوال پوچھنے والے کا نام: مشتاق احمد       مقام: لاہور

سوال نمبر 5154:
السلام علیکم! میں‌ چار عمرے کیے، دوسرے عمرے کے دوران جس کا احرام میں‌ نے مسجدِ جیرانہ سے باندھا مگر عمرے کی ادائیگی سے پہلے کھانا کھایا اور لکس صابن سے ہاتھ دھویا اس کے بعد اس کی خوشبو ختم کرنے کے لیے میں پانچ منٹ تک گرم پانی سے اپنے ہاتھ دھوتا رہا۔ کیا مجھ پر دم واجب ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ لوگ کہتے ہیں‌ کہ ایک سفر میں‌ صرف دو عمرے ہی ہوسکتے ہیں۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟

جواب:

آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:

  1.  حالتِ احرام میں خوشبودار صابن سے ہاتھ دھونا بہتر نہیں‘ تاہم اس سے مُحرم پر دَم لازم نہیں آتا کیونکہ صابن سے مقصود صفائی ہے ناکہ خوشبو۔
  2. سفرِ حجاز میں انسان اپنی ہمت اور صحت کے مطابق جتنے چاہے عمرے ادا کر سکتا ہے۔ ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-12-24


Your Comments