Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا ٹیڑھے دانتوں کو سیدھا کروانا تخلیقِ‌ خدا میں‌ تغیر ہے؟

کیا ٹیڑھے دانتوں کو سیدھا کروانا تخلیقِ‌ خدا میں‌ تغیر ہے؟

موضوع: علاج معالجہ

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد عبدالباری       مقام: ہندوستان

سوال نمبر 5137:
السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ کیا دانتوں کو سیدھا کرنے یا اندر کرنے کیلئے بریزس braces استعمال کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا اس سے اللہ کی تخلیق میں تبدیلی سمجھا جائیگا؟ آج کل یہ خوبصورتی کیلئے استعمال کر رہے ہیں تو اس کا کیا حکم ہوگا یا صرف مرض کیلئے ہی استعمال کرسکتے ہیں؟

جواب:

انسان کے اعضائے جسمانی جیسے ہاتھ، پاؤں، آنکھ، کان، ناک، دانت یا کسی اور عضو میں غیرمعتاد طور پر کوئی نقص ہو تو اسے بذریعہ علاج ٹھیک کرنا یا کرانا جائز ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تغیر شمار نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس کا مقصد عیب اور ضرر کو دور کرنا ہے۔ البتہ اس کے لیے ایسا طریقہء علاج اختیار کیا جائے جس میں ہلاکت یا کسی نقصان کا اندیشہ نہ ہو۔ دورِ حاضر میں طب جدید نے جسمانی عیوب کو دور کرنے کے غیرمضر اور کامیاب علاج دریافت کر لیے ہیں‘ اس لیے ان سے فائدہ اٹھانے میں شرعاً کچھ حرج نہیں۔ اسی اصول کی بناء پر ٹیڑھےدانتوں کو منحنی تار (braces) سے جکڑ کر سیدھا کرنا جائز ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-11-19


Your Comments