کیا میلادالنبی کے لیے وقف زمین پر مسجد و مدرسہ کی تعمیر جائز ہے؟

سوال نمبر:5134
ایک آدمی نے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے زمین وقف کیا۔ اب گاؤں کے تمام لوگوں اور واقف یہ چاہتے ہیں کہ اس زمین میں مسجد مدرسہ یا عیدگاہ بنا لیا جائے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ اگر یہاں مدرسہ یا مسجد بنا لیا جائے تو یہ درست ہوگا کیا؟

  • سائل: افسر علیمقام: برپیتا، آسام، ہندوستان
  • تاریخ اشاعت: 15 نومبر 2018ء

زمرہ: وقف کے احکام و مسائل

جواب:

وقف سے مراد کسی شے کو فلاح عامہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی مِلک میں‌ دینا ہے تاکہ اس سے بندگانِ خدا کو نفع ملتا رہے۔ واقف (وقف کرنے والا) عموماً وقف کا مقصد بھی متعین کرتا ہے لیکن اگر وقف کا کوئی خاص مقصد متعین نہ کیا گیا ہو تو منتظمین کو اس سلسلے میں‌ فیصلہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔

مسئلہ ذیل میں‌ بھی وقف کرنے والے نے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر زمین وقف کی مگر محض میلاد کے لیے زمین وقف کرنے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟ ہماری دانست میں اس زمین کا بہترین استعمال یہی ہے کہ یہاں‌ مسجد اور ایسی درس گاہ تعمیر کی جائے جہاں‌ دینی و دنیاوی اور جدید و قدیم علوم کی تدریس کی جائے۔ بہرحال اس کا فیصلہ وقف کے منتظمین نے ہی کرنا ہے کہ اس زمین کو کس استعمال میں‌ لاجایا‘‌ منتظمین فیصلہ کریں‌ اور اسے استعمال میں‌ لے آئیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟