اسلام میں شراب نوشی کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:5132
السلام علیکم! اسلام میں شراب نوشی (wine drinking) کا کیا حکم ہے؟

  • سائل: شاہد حسینمقام: راولپنڈی
  • تاریخ اشاعت: 01 دسمبر 2018ء

زمرہ: تمباکو نوشی اور منشیات

جواب:

اسلام دین فطرت ہے جو اپنے ماننے والوں کو پاکیزگی و پاکبازی، عفت و پاکدامنی، شرم و حیا اور راست گوئی و راست بازی جیسی اعلیٰ صفات سے متصف اور مزین دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں بےشرمی، بےحیائی، بےعقلی، بدگوئی اور بے راہ روی جیسی رذیل و ملعون عادات سے بچنے کا حکم اور امر کرتا ہے۔ مطلوب صفات کی نشو و نما اور ممنوع ... کے سدباب کے لیے اسلام نے ہر اس چیز کے کھانے، پینے اور استعمال کی اجازت دی ہے جو حلال، طیب، پاکیزہ اور صاف ستھری ہو‘ جس کے استعمال سے صحت، قوت، طاقت، فرحت اور انبساط جیسی جسمانی ضروریات بھی پوری ہوتی ہوں اور کردار و اخلاق جیسے عمدہ خصال بنتے اور سنورتے ہوں۔ اس کے برعکس ہر اس چیز کے برتنے اور استعمال سے منع کیا ہے جس سے صحتِ ایمانی اور صحت جسمانی کی خرابی، عقل و شعور جیسی نعمت کا زوال اور تہذیب و اخلاق جیسے اعلیٰ اوصاف کے بگڑنے یا بدلنے کا اندیشہ اور شائبہ تک پایا جاتا ہو۔ قرآن کریم اور سنت نبویہ کی نصوص قطعیہ اور صحابہ کرام کی تصریحات سے حلال و حرام کی وضاحت ہوچکی ہے، جن کی تفصیلات و تشریحات فقہائے عظام اجتہاد کے ذریعے اور علمائے کرام وعظ و بیان و افتاء کے ذریعے امت مسلمہ کے سامنے پیش کرتے آئے ہیں۔ ایک مسلمان کے لئے جس طرح نماز، روزہ، زکوٰة اور حج کی فرضیت کا عقیدہ رکھنا، ان کا علم حاصل کرنا اور ان پر عمل کرنا فرض اور ضروری ہے، اسی طرح شراب، جوا، سود، زنا اور چوری کی حرمت کا عقیدہ رکھنا، اس کی حرمت کا علم حاصل کرنا اور اس سے بچنا بھی فرض اور ضروری ہے۔

قرآنِ مجید میں شراب کی حرمت تدریجاً بیان ہوئی ہے۔ شراب کے رسیاء عرب معاشرے نے شراب کے متعلق سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے جواب ان الفاظ میں دیا:

يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَآ أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا.

آپ سے شراب اور جوئے کی نسبت سوال کرتے ہیں، فرما دیں: ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے کچھ (دنیوی) فائدے بھی ہیں مگر ان دونوں کا گناہ ان کے نفع سے بڑھ کر ہے۔

(البقرة، 2: 219)

شراب کی بابت سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا کہ اگرچہ شراب اور جوئے میں بظاہر کچھ فائدہ ہے، لیکن ان کا گناہ اور نقصان ان کے فائدہ سے شدید تر ہے۔ ہر آدمی جانتا ہے کہ شراب پینے سے عقل جاتی رہتی ہے اور یہی عقل ہی انسان کو تمام برائیوں اور افعال شنیعہ سے بچاتی ہے۔ اس آیت کے نزول کے بعد بہت سی محتاط طبیعتوں نے مستقل طور پر شراب نوشی ترک کردی۔ پھر کسی موقع پر نماز مغرب ہورہی تھی، امام صاحب نے نشہ کی حالت میں سورہ الکافرون میں ”لاَأَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ “ کی جگہ “أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ “ پڑھا، جس سے معنی میں بہت زیادہ تبدیلی آگئی، یعنی شرک سے اظہار برأت کی جگہ شرک کا اظہار لازم آیا تو اللہ تعالیٰ نے فوراً یہ آیت نازل فرمائی:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَقْرَبُواْ الصَّلاَةَ وَأَنتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُواْ مَا تَقُولُونَ.

اے ایمان والو! تم نشہ کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ تم وہ بات سمجھنے لگو جو کہتے ہو۔

النساء، 4: 43

اس آیت سے بھی شراب کی ناپسندیدگی کا اظہار ہوتا ہے، اس لیے یہ دوسرا حکم نازل ہونے کے بعد بہت سے حضراتِ صحابہ کرام نے بالکلیہ شراب نوشی ترک کردی اور بہت سوں نے نماز عصر اور نماز مغرب کے بعد شراب پینا اس لئے چھوڑ دیا کہ ان نمازوں کے اوقات قریب قریب ہیں۔ اس آیت کے نزول کے بعد اشارات و قرائن سے یہی معلوم ہوتا تھا کہ عنقریب شراب کی حرمت کا قطعی حکم نازل ہونے والا ہے۔ اس عرصہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ دعا بھی منقول ہے کہ:

اللّٰهم بیّن لنا فی الخمر بیاناً شافیاً.

اے اللہ! شراب کے بارہ میں فیصلہ کن حکم نازل فرما دے۔

تیسرے مرحلہ پر سورہ مائدہ میں نہایت مؤثر انداز سے شراب کی حرمت بیان کی گئی ہے۔ شراب کی حرمت کے بیان کا انداز ایسا جامع ہے کہ کسی حرام اور ممنوع چیز کی حرمت کا اعلان اتنی جامعیت کے ساتھ نہیں کیاگیا۔ ساتھ ہی ساتھ حرمت کی علت و حکمت‘ دینی و دنیوی ہر دو پہلو سے بیان فرما دی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ. إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللّهِ وَعَنِ الصَّلاَةِ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ.

اے ایمان والو! بیشک شراب اور جُوا اور (عبادت کے لئے) نصب کئے گئے بُت اور (قسمت معلوم کرنے کے لئے) فال کے تیر (سب) ناپاک شیطانی کام ہیں۔ سو تم ان سے (کلیتاً) پرہیز کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔ شیطان یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور کینہ ڈلوا دے اور تمہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے۔ کیا تم (ان شرانگیز باتوں سے) باز آؤ گے۔

الْمَآئِدَة، 5: 90-91

حرمتِ شراب کے لیے نہایت مؤثر و بلیغ طرزِ بیان اختیار کرتے ہوئے اس کو اِثم، رِجس، اجتناب انتہاء، عملِ شیطانی، بغض و عداوت کا سبب اور نماز و ذکراللہ سے غفلت کا باعث قرار دے کر اس سے روکا ہے۔ احادیثِ مبارکہ سے اس حرمت کی مزید وضاحت یوں ہوتی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ وَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَتُبْ، لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ.

ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور شئے حرام ہے، اور جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور وہ شراب کا عادی توبہ کئے بغیر مرگیا تو وہ آخرت میں شراب نہیں پیئے گا (یعنی شرابی، جنت کی شراب سے محروم رہے گا)۔

مسلم، الصحيح، كتاب الأشربة، باب بيان أن كل مسكر خمر وأن كل خمر حرام، 3: 1587، رقم: 2003، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي

ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

حُرِّمَتِ الْخَمْرُ قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا وَالسُّكْرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ حَرَامٌ.

شراب کی قلیل و کثیر (مقدار) حرام کر دی گئی ہے اور ہر مشروب جس سے نشہ آئے حرام ہے۔

نسائي،السنن، كتاب الأشربة، ذكر الأخبار التي اعتل بها من أباح شراب المسكر، 3: 233، رقم: 5193، بيروت: دارالكتب العلمية

اسلام میں شراب پینے کی حرمت کے ساتھ شراب کی خرید و فرخت بھی حرام قرار دے دی گئی ہے، جیسے حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے سال رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں تھے:

إِنَّ اﷲَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَة وَالْخِنْزِيرِ وَالْأَصْنَامِ.

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام قرار دے دیا ہے۔

  1. بخاري، الصحيح، كتاب البيوع، باب بيع الميتة والأصنام، 2: 779، رقم: 2121، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة
  2. مسلم، الصحيح، كتاب المساقاة، باب تحريم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام، 3: 1207، رقم: 1581

مذکورہ تصریحات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام کی نظر میں شراب نوشی و شراب فروشی قطعاً حرام ہے۔ اس سے اجتناب لازم ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟