کیا حضرت ابوبکر (رض) نے سیدہ فاطمہ علیہا السلام سے فدک واپس لیا تھا؟

سوال نمبر:5105
السلام علیکم مفتی صاحب! تاریخی کتب کے مطابق فدک خلیفہ وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ نے بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے واپس لے لیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ بی بی سلام اللہ علیہا کو فدک دیا کس نے تھا؟ اگر فدک رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بی بی سلام اللہ علیہا کو دے دیا تھا تو کیا واپس لینا غلط قدم نہیں تھا؟ وضاحت کیجئیے۔

  • سائل: ریحان حیدرمقام: کراچی، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 29 اکتوبر 2018ء

زمرہ: فضائل و مناقبِ‌ اہلبیتِ اطہار  |  خلفائے راشدین و صحابہ کرام

جواب:

باغِ فَدک کا مسئلہ سمجھنے کے لیے ہم اختصار کے ساتھ فدک کے اہم نکات بیان کیے دیتے ہیں تاکہ قارئین کی نفسِ مسئلہ سے آشنائی ہو:

فَدک‘ خیبر ایک قصبہ تھا جس کی اکثریتی آبادی یہودی تھی۔ فتح خیبر کے موقع پر اہلیانِ فدک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صلح کا معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کی بنیادی شرائط یہ تھی کہ اہلِ فدک کے مال و اسباب اور زرعی زمینیں انہی کے تصرف میں رہیں گی‘ مسلمان ان کو تحفظ کی ضمانت دیں گے اور یہ ہر سال اپنی کُل آمدنی کا نصف مسلمانوں کو دیں گے۔ مؤرخین کے مطابق سات ہجری میں فدک کی اراضی سے آنے والی آمدنی چوبیس ہزار دینار سالانہ تھی۔ سنن ابی داؤد کی روایت کے مطابق ننانوے ہجری میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت تک اجناس کی قیمتیں بڑھ جانے کے سبب فدک کی آمدن چالیس ہزار دینار تک پہنچ چکی تھی۔

بلاتفریقِ مسلک و مذہب تمام علماء کا اتفاق ہے کہ فدک کی حیثیت ’مالِ فَے‘ کی تھی۔ اسلامی اصطلاح میں جو مال دشمن سے بغیر جنگ کے حاصل ہو مالِ فَے کہلاتا ہے۔ مالِ فَے کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

مَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِO لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَOوَالَّذِينَ تَبَوَّؤُوا الدَّارَ وَالْإِيْمَانَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْط

جو (اَموالِ فَے) اللہ نے (قُرَیظہ، نَضِیر، فِدَک، خَیبر، عُرَینہ سمیت دیگر بغیر جنگ کے مفتوحہ) بستیوں والوں سے (نکال کر) اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر لوٹائے ہیں وہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ہیں اور (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) قرابت داروں (یعنی بنو ہاشم اور بنومطّلب) کے لئے اور (معاشرے کے عام) یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے لئے ہیں، (یہ نظامِ تقسیم اس لئے ہے) تاکہ (سارا مال صرف) تمہارے مال داروں کے درمیان ہی نہ گردش کرتا رہے (بلکہ معاشرے کے تمام طبقات میں گردش کرے)۔ اور جو کچھ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں عطا فرمائیں سو اُسے لے لیا کرو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں سو (اُس سے) رُک جایا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو (یعنی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقسیم و عطا پر کبھی زبانِ طعن نہ کھولو)، بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ (مذکورہ بالا مالِ فَے) نادار مہاجرین کے لئے (بھی) ہے جو اپنے گھروں اور اپنے اموال (اور جائیدادوں) سے باہر نکال دیئے گئے ہیں، وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضاء و خوشنودی چاہتے ہیں اور (اپنے مال و وطن کی قربانی سے) اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد کرتے ہیں، یہی لوگ ہی سچے مؤمن ہیں۔ (یہ مال اُن انصار کے لئے بھی ہے) جنہوں نے اُن (مہاجرین) سے پہلے ہی شہرِ (مدینہ) اور ایمان کو گھر بنا لیا تھا۔ یہ لوگ اُن سے محبت کرتے ہیں جو اِن کی طرف ہجرت کر کے آئے ہیں

الْحَشْر، 59: 7-9

درج بالا تین آیات میں اموالِ فَے کے مصارف ذکر کیے گئے ہیں۔ پہلی آیتِ مبارکہ میں پانچ مصارف بیان ہوئے یعنی اللہ و رسول، رسول اللہ کے قرابت دار، یتیم، محتاج اور مسافر‘ دوسری آیت میں نادار مہاجرین اور تیسری آیت میں سابقینِ انصار کو بھی مالِ فَے کے مصارف میں شامل کیا ہے۔ نیز اس سے اگلی آیت میں تابعین کو بھی ان مصارف میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ آیات محکم اور اپنے معنیٰ میں نہایت واضح و غیرمبہم ہیں۔ یہ مصارف نہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخفی رہے ہیں‘ نہ صدیق و فاروق سمیت جماعتِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوشیدہ تھے اور نہ ان میں سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا و مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم یا کسی دوسرے مسلمان کے لیے کوئی حجاب تھا۔ چنانچہ قرآنِ مجید کے اس حکم کے مطابق فَدک سمیت اموالِ فَے کی آمدن سے مذکورہ مصارف کی کفالت کی جاتی تھی‘ لیکن مالِ غنیمت کے برعکس اموالِ فَے کی ملکیت کسی کو منتقل نہیں کی گئی بلکہ یہ ریاست کی ملکیت (State Prosperity) تھی۔ اپنے مبارک زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بطور سربراہِ ریاست اموالِ فَے کی آمدنی وصول کرتے اور اس کے مصارف تک پہنچا دیتے‘ ان مصارف کو اموالِ فَے سے حقِ استفاد (Beneficiary Right) تھا مگر حقِ ملکیت (Proprietary Right) نہیں تھا‘ کیونکہ فَے ملکیت ریاست کی ہی تھی۔ اس لیے اموالِ فَے کو نہ تو ہبہ کیا جاسکتا تھا اور نہ کیا گیا‘ یہ وراثت بن سکتی تھی اور نہ بنی۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد آپ کی خلافت اور مسلمانوں کی امارات کے لیے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتخاب ہوا۔ فَدک سمیت اموالِ فَے کا انتظام و انصرام بطور سربراہِ ریاست و حکومت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ذمہ آگیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سربراہِ ریاست کے طور پر فَدک کی تولیت (Management) سنبھالی‘ آپ نے فَدک پر قبضہ کیا نہ کسی سے قبضہ چھُڑیا‘ اس کے مصارف بدلے اور نہ ہی ذاتی استعمال میں لائے۔ اس موقع پر ایک انتظامی مسئلہ (Managerial Issue) پیدا ہوا‘ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فدک کے انتظامات ان کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ ہبہ واپس لینے کا نہیں‌ تھا بلکہ بنتِ‌ رسول کی حیثیت سے فَدک کی تولیت کا تھا‘ اس کے جواب میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’اللہ کی قسم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے انتظامات میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا‘ تمام انتظامات اُسی طرح رہیں گے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے عہد مبارک میں تھے۔ میں بھی ان صدقات کوانہی مصارف میں استعمال کروں گا جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم استعمال کیا کرتے تھے۔ میں اپنے اقرباء سے صلہ رحمی کرنے سے زیادہ یہ پسند کرتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقرباء سے صلہ رحمی کروں۔‘‘ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے بعدازں اس مسئلے پر کوئی بات نہیں کی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نیابتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سبب فَدک کے انتظامات اپنے پاس رکھے مگر اس کی آمدن کی تقسیم بالکل وہی رہی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ اقدس میں تھی یعنی اس میں سے ازواجِ مطھرات و آلِ‌ فاطمہ سمیت دیگر مصارفِ‌ فَے کی کفالت جاری رہی۔ حضرت عمر و عثمان رضی اللہ عنہما اور سیدنا علی و امام حسن علیہما السلام کے ادوارِ خلافت میں بھی معاملہ بعینہ وہی رہا جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں‌ تھا۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فَدک ہبہ کر دیا ہوتا تو سیدنا على كرم اللہ وجہہ الکریم جیسا حق گو اور انصاف پسند بغیر کسی خوف و تردد کے فدک اس کے اصلی حق داروں کی ملکیت میں لازماً دے دیتا۔ کیونکہ قرآن كريم نے تو سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا وصف بیان کیا ہے کہ ’وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ڈرتے نہیں ہیں‘۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ فَدک کے مسئلہ میں سیدہ فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کو بشری تقاضے کے تحت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے رنجش پیدا ہوئی‘ لیکن زیب داستان کے لیے ’نادان و متعصب‘ دوستوں نے اس معاملے کو یوں بڑھا چڑھا کر پیش کیا کہ اصل واقعہ تاریخ کے اوراق میں دب کر رہ گیا۔ حالانکہ مسئلہ فدک کے فیصلے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اجازت سے ان کی عیادت کی اور آپ کی زوجہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تیمارداری کی خدمات انجام دیں۔ امام بیہقی اس بابت رقمطراز ہیں:

امام مرضت فاطمة رضی الله عنها اتاها ابوبکر صدیق رضی الله عنه فاستاذن علیها فقال علی: یافاطمة ابوبکر یستاذن علیک. فقالت: اتحب ان اذن له؟ قال: نعم. فاذنت له فدخل علیها یترضاها.

جب فاطمہ رضی اللہ عنہا بیمار ہوئیں تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے گھر تشریف لائے اور عیادت کے لیے اجازت طلب کی۔ مولا علی علیہ السلام نے آپ سے پوچھا: فاطمہ! ابوبکر تشریف لائے ہیں آپ کی عیادت کی اجازت چاہتے ہیں۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا آپ ان سے ملاقات کی اجازت دیں گے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں۔ پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ان کو راضی کیا۔

روایات میں اس عیادت کا احوال یوں بیان ہوا ہے کہ:

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں نے اپنا گھر بار، اپنی جان و مال اور اپنی اولاد سب اللہ‘ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلبیت کو راضی کرنے کے لیے قربان کر دی۔ اس طرح کی باتوں سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ الزھراء سلام اللہ علیہا کی رنجش دور کرنی چاہی تو وہ ان سے راضی ہو گئیں۔

بیهقی، السنن الکبری، 6: 301

سیدہ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہی آپ کی نمازِ جنازہ کی امامت کی اور سیدنا علی المرتضیٰ اور حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما سمیت کثیر صحابہ کرام جنازہ میں شریک ہوئے۔

مسئلہ فدک کی حقیقت جاننے کے لیے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے درج ذیل خطابات ملاحظہ کیجیے:

مسئلہ فدک: قرآن کی روشنی میں

مسئلہ فدک: علمی و تحقیقی حل (1)

مسئلہ فدک: علمی و تحقیقی حل (2)

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟