Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - عبدالمطلب نام رکھنا کیسا ہے؟

عبدالمطلب نام رکھنا کیسا ہے؟

موضوع: اسلامی نام

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد عابد اقبال       مقام: لاہور

سوال نمبر 5098:
السلام علیکم مفتی صاحب! کیا میں اپنے بیٹے کا نام عبدالمطلب رکھ سکتا ہوں؟

جواب:

ایسے نام جن میں عبودیت کی نسبت غیراللہ کی طرف ہو حرام ہیں، جیسے: عبدالعزیٰ، عبدالکعبہ، عبدشمس، عبدالحارث، عبدعمر وغیرہ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے ناموں کو بدل دیا کرتے تھے۔ لیکن عبدالمطلب نام ان میں سے مستثنیٰ ہے‘ اگرچہ اس میں بھی نسبتِ عبودیت غیراللہ کی طرف کی گئی ہے مگر ایک صحیح روایت ملتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نام پر رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے چچازاد بھائی عبدالمطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کے نام کے سلسلے میں سکوت فرمایا جو اس کی مشروعیت کو ظاہر کرتا ہے۔

اگرچہ عبدالمطلب نام رکھنا جائز ہے‘ لیکن اس کو ترک کرنا بہتر ہے۔ اس کی بجائے نسبتِ عبدیت اللہ تعالیٰ کے معروف اسماء و صفات کی طرف کرنا افضل ہے، جیسے: عبداللہ، عبدالرحمان، عبدالرزاق، عبدالخالق وغیرہ۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-10-13


Your Comments