Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - زوال کے وقت نمازِ جنازہ ادا کرنا کیسا ہے؟

زوال کے وقت نمازِ جنازہ ادا کرنا کیسا ہے؟

موضوع: مکروہ اوقات   |  نماز جنازہ

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد اکرم       مقام: بارہ بنکی، یوپی، ہندوستان

سوال نمبر 5088:
زوال کے وقت نماز جنازہ پڑھنا کیسا ہے؟

جواب:

دن و رات میں تین اوقات ایسے ہیں جن میں نفل یا قضاء نماز، نمازِ جنازہ یا سجدہ تلاوت کی ادائیگی جائز نہیں۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:

ثلاث ساعات كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهانا ان نصلي فيهن وان نقبر فيهن موتانا، حين تطلع الشمس بازغة حتى ترتفع وحين يقوم قائم الظهيرة حتى تميل الشمس وحين تضيف الشمس للغروب حتى تغرب.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں تین اوقات کے دوران نماز ادا کرنے اور اپنے فوت شدگان کے جنازہ کی ادائیگی سے منع کیا، وہ تین اوقات ہیں: طلوعِ آفتاب کا وقت جب تک سورج بلند نہ ہو جائے‘ زوال کا وقت جب تک سورج ڈھل نہ جائے اور غروبِ آفتاب کا وقت جب تک سورج غروب نہ ہو جائے۔

سنن الدارمي، عبدالله بن عبدالرحمٰن، رقم حدیث: 1432

امام ابنِ عابدین شامی نے اس کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے:

والمراد بقوله و ان نقبر صلوه الجنازه لان الدفن غیر مکروه.

’’نقبر سے مراد نماز جنازہ ہے، کیونکہ (ممنوعہ اوقات میں) تدفین مکروہ نہیں ہے۔‘‘

رد المختار، شامی، 3: 70

تاہم ان ممنوعہ اوقات میں نماز جنازہ ادا کرنے کی ایک جائز صورت بھی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اگر نمازِ جنازہ کسی مکروہ وقت‘ جیسے: زوال کے وقت واجب ہوا اور بلاتاخیر زوال کے وقت ہی ادا کر دیا گیا تو یہ ادائیگی جائز ہوگی۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ جنازہ کی ادائیگی میں‌ تاخیر کرنے سے منع فرمایا ہے۔ لیکن اگر جنازہ مباح وقت میں واجب ہوا اور تاخیر کر کے ممنوعہ وقت میں ادا کیا گیا تو ادائیگی درست نہیں ہوگی۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

اذا وجبت صلوة الجنازة و سجده التلاوة فی وقت مباح واخرتا الی هذا الوقت فانه لایجوز قطعا، اما لو وجبتا فی هذا الوقت وادیا فیه جاز.

اگر نمازِ جنازہ یا سجدہ تلاوت مباح وقت میں واجب ہوئے اور تاخیر کر کے (زوال) کے وقت ادا کیے گئے تو یہ ادائیگی قطعاً ناجائز ہوگی۔ لیکن جب یہ (زوال) کے وقت ہی واجب ہوئے اور (بغیر تاخیر کے) اسی وقت ادا کر دیئے گئے تو یہ ادائیگی جائز ہے۔

عالمگیری، 1: 52

لہٰذا عمومی قاعدہ یہی ہے کہ زوال کے وقت نمازِ جنازہ ادا نہیں کی جائے گی‘ تاہم اس کے مشروط جواز کی ایک صورت ہم نے بیان کر دی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2018-10-03


Your Comments