کیا دورانِ ڈیوٹی فراغت کے اوقات میں تلاوتِ قرآن کرنا جائز ہے؟

سوال نمبر:5081
السلام علیکم!‌ ہماری آفس کے اوقاتِ کار صبح 9 سے 5 بجے تک ہیں اور ساڑھے نو تک گریس پریڈ ہوتا ہے۔ میں‌ 8:30 پر آفس آ جاتا ہوں۔ کبھی کبھی جب کام نہیں‌ ہوتا تو قرآنِ پاک کی تلاوت کر لیتا ہوں، میں حافظ‌ ہوں‌ اور منزل یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اس دوران میرا کام متاثر نہیں‌ ہوتا، مہینے کے آخر میں‌ میرا سارا کام مکمل ہوتا ہے اور مجھ سے کسی کو شکائت بھی نہیں‌ ہوتی۔ کیا اس صورت میں‌ دورانِ‌ ڈیوٹی قرآنِ مجید کی تلاوت کرنا جائز ہے؟

  • سائل: حافظ فرقان اعوانمقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 12 اکتوبر 2018ء

زمرہ: تلاوت‌ قرآن‌ مجید

جواب:

اگر دفتری کام کی نوعیت ایسی ہے کہ جس میں انہماک سے تلاوتِ قرآنِ مجید کرنے کا موقع مل جاتا ہے تو فضول بیٹھنے سے تلاوت کرنا بہتر ہے۔ اس کے برعکس کام ادھورا چھوڑ کر یا کام میں کوتاہی کر کے اور دفتری امور کو پسِ پشت ڈال کر تلاوت، نفلی عبادات اور ذکر اذکار کرنا جائز نہیں‘ کیونکہ ایسی صورت میں رزق کی حلت و حرمت کا معاملہ بھی مشکوک ہو جاتا ہے۔ مزید وضاحت سوال نمبر 4897 میں بیان کی جاچکی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟