Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - مسجد سے متصل بیت الخلاء تعمیر کرنے کا کیا حکم ہے؟

مسجد سے متصل بیت الخلاء تعمیر کرنے کا کیا حکم ہے؟

موضوع: مسجد کے آداب

سوال پوچھنے والے کا نام: احمد رضوان علی       مقام: پاکستان

سوال نمبر 5074:
مسجد کے آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے واش روم مسجد سے کتنی دور ہونی چاہیے؟ شرعی حدود کیا ہیں؟

جواب:

حضرت واثلۃ بن الاسقع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنی مسجدوں کو بچوں، دیوانوں (پاگلوں)، خرید و فروخت کرنے والوں اور اپنے جھگڑوں (اختلافی مسائل)، زور زور سے بولنے، حدود قائم کرنے اور تلواریں کھینچنے سے محفوظ رکھو۔ مزید فرمایا:

وَاتَّخِذُوا عَلَی أَبْوَابِهَا الْمَطَاهِرَ، وَجَمِّرُوهَا فِي الْجُمَعِ.

اور مساجد کے دروازاوں پر طہارت خانے بناؤ اور جمعہ کے روز مسجدوں میں خوشبو چھڑکا کرو۔

  1. ابن ماجه، السنن، کتاب المساجد والجماعات، باب ما یکره فی المساجد، 1: 247، رقم: 750، بیروت: دار الفکر
  2. طبراني، المعجم الكبير، 22: 57، رقم: 136، الموصل: مكتبة الزهراء

اس ارشادِ گرامی سے واضح ہوتا ہے کہ طہارت خانے، بیت الخلاء یا غسل خانے مسجد کے دروازوں پر بنائے جائیں‘ ان کا طرزِ تعمیر یہ ہونا چاہیے کہ ان کی بو مسجد میں نہ آئے اور مسجد کا ماحول صاف ستھرا رہے۔ بیت الخلاء مساجد سے متصل ہونے میں‌ حرج نہیں لیکن ان کا رُخ باہر کی طرف ہونا چاہیے تاکہ مسجد کی صفائی اور نفاست کا نظام برقرار رہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-10-16


Your Comments