کیا غیرمسلم کے ہاں‌ سے خیرات کا کھانا جائز ہے؟

سوال نمبر:5072
السلام علیکم سر! یہاں پے ایک ہندو 9 محرم الحرام کو خیرات کرواتا ہے۔ ایک دوست کہتا ہے یہ کھانا ناجائز ہے۔ میں اس کی شرعی حیثیت جاننا چاہتا ہوں۔ شکریہ

  • سائل: جنید احمدمقام: حیدرآباد، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 11 اکتوبر 2018ء

زمرہ: خور و نوش

جواب:

شریعتِ اسلامیہ کے متعارف کردہ قانونِ خورد و نوش پیشِ نظر غیرمسلم دو طرح کے ہیں:

  1. اہل کتاب (یہودی، مسیحی)
  2. اہل کتاب کے سوا دیگر سب (ہندو، سیکھ، بدھ، جین، پارسی، بہائی، مرتد وغیرہ)

کھانے پینے کی تمام حلال اشیاء جیسے روٹی، دالیں، سبزیاں، چاول اور پھل وغیرہ درج بالا دونوں طرح کے غیرمسلموں کے ہاں سے کھائے جاسکتے ہیں‘ بشرطیکہ ان میں کسی حرام کی ملاوٹ نہ کی گئی ہو۔ البتہ اہلِ کتاب یعنی یہودی یا مسیحی کے علاوہ کسی اور غیرمسلم کے ذبح کردہ جانور کا گوشت کھانا ممنوع ہے۔ اگر کسی مسلمان یا مسیحی یا یہودی نے حلال جانور ذبح کیا اور بعد ازاں اسے کسی ہندو، سیکھ یا پارسی وغیرہ نے پکایا تو کھانے میں کوئی حرج نہیں۔

اس لیے اگر مذکورہ غیرمسلم کے ہاں سے خیرات کردہ حلال اشیاء کھانا جائز ہے، اگر اس کا ذبیحہ ہے تو کسی مسلمان کے لیے کھانا جائز نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟