Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا اسقاطِ حمل سے مطلقہ حاملہ کی عدت مکمل ہو جائے گی؟

کیا اسقاطِ حمل سے مطلقہ حاملہ کی عدت مکمل ہو جائے گی؟

موضوع: حاملہ کی عدت   |  اسقاط حمل/عزل

سوال پوچھنے والے کا نام: افشیں       مقام: برطانیہ

سوال نمبر 5069:
السلام علیکم! ایک شادی شدہ عورت زنا سے حاملہ ہو گئی، جب اس کے شوہر کو اس بات کا پتہ چلا تو اس نے اِس بیوی کو طلاق دے دی۔ شوہر نے ایک طلاق کی نیت سے کنایہ الفاظ‌ کے ساتھ اس طرح‌ طلاق دی کہ ’میں تمہیں‌ آزاد کرتا ہوں‘۔ سوال یہ ہے مطلقہ کی عدت کیا ہوگی؟ اگر وہ اسقاطِ‌ حمل کروا لے تو عدت کیا ہوگی؟ اگر حمل ضائع ہو جائے تو عدت کیا ہوگی؟ اگر وہ بچے کو جنم دیتی ہے تب عدت کیا ہوگی؟ اور کیا وہ مطلقہ عورت اسی حمل کے دوران اُسی شخص سے نکاح‌ کر سکتی ہے جس سے حاملہ ہوئی ہے؟

جواب:

طلاق کی نیت سے شوہر کے الفاظ ’میں تمہیں آزاد کرتا ہوں‘ سے طلاق واقع ہو گئی اور اِن میاں بیوی کا نکاح ختم ہوگیا۔ یہ مطلقہ عورت ایامِ عدت میں اپنے سابق شوہر کے علاوہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہیں کر سکتی۔ آپ کے بقول طلاق کے وقت مذکورہ عورت حاملہ تھی‘ تواس کی عدت وضعِ حمل یعنی حمل سے خالی ہونا ہے۔ اس حمل سے پیدا ہونے والا بچہ اسی شخص کی طرف منسوب ہوگا جس کے نکاح میں عورت حاملہ ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:

الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ.

بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر ہو اور زانی کے لیے سنگ کی سزا ہے۔

  1. بخاري، الصحیح، 6: 2481، رقم: ، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة
  2. مسلم، الصحیح، 2: 1080، رقم: 1457، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربي

ایک اور روایت میں ہے:

عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ أَنَّ رَسُولَ ﷲِ قَالَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ.

حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر ہو اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔

  1. مسلم، الصحیح، 2: 1081، رقم: 1458
  2. أحمد بن حنبل، المسند، 2: 280، رقم: 7749، مصر: مؤسسة قرطبة

اس لیے وہی شخص بچے کا والد کہلائے گا جس کے نکاح میں ہوتے ہوئے عورت حاملہ ہوئی تھی۔

حاملہ کی عدت کے بارے میں قرآنِ مجید کا ارشاد ہے:

وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ.

اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اگر تمہیں شک ہو (کہ اُن کی عدّت کیا ہوگی) تو اُن کی عدّت تین مہینے ہے اور وہ عورتیں جنہیں (ابھی) حیض نہیں آیا (ان کی بھی یہی عدّت ہے)، اور حاملہ عورتیں (تو) اُن کی عدّت اُن کا وضعِ حمل ہے۔

الطَّلاَق ، 65: 4

اگر حمل کی عمومی مدت مکمل ہونے سے پہلے وہ حمل ضائع کروا دے یا قبل از وقت بچے کی پیدائش ہو جائے یا کسی بھی طرح عورت غیر حاملہ ہو جائے تو عدت مکمل ہو جائے گی۔ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ:

عَنِ السِّقْطِ، فَقَالَ: تَنْقَضِي بِهِ الْعِدَّةُ.

 اگر نامکمل بچہ پیدا ہو جائے تو کیا عدت مکمل ہو جائے گی؟ انہوں نے فرمایا: ہاں عدت مکمل ہو جائے گی۔

ابن أبي شيبة، المصنف، 4: 197، رقم: 19274، الرياض: مكتبة الرشد

حضرت اشعث بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے تھے:

إِذَا أَلْقَتْهُ عَلَقَةً أَوْ مُضْغَةً بَعْدَ أَنْ يُعْلَمَ أَنَّهُ حَمْلٌ، فَفِيهِ الْغُرَّةُ، وَتَنْقَضِي بِهِ الْعِدَّةُ، وَإِنْ كَانَتْ أُمَّ وَلَدٍ أُعْتِقَتْ.

حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب عورت نے بچے کو جما ہوا خون یا لوتھڑا ہونے کی حالت میں جنم دیا بعد اس کے کہ حمل ہونا معلوم ہو چکا تھا تو اس میں غُرَّہ (صحت مند غلام یا لونڈی بطور دیت) ہے۔ اور اس سے عدت پوری ہو جائے گی اور اگر ام ولد ہو تو آزاد ہو جائے گی۔

ابن أبي شيبة، المصنف، 4: 198، رقم: 19279

اس سے واضح ہوتا ہے کہ مطلقہ حاملہ کی عدت‘ حمل سے خالی ہونا ہے، خواہ بچے کی پیدائش سے ہو یا اسقاطِ حمل سے۔ دورانِ عدت وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہیں کر سکتی۔ اگر حمل چار ماہ سے زائد مدت کا ہے تو حمل ضائع کروانا جائز نہیں کیونکہ یہ قتل کے مترادف ہوگا۔ مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

کن صورتوں میں اور کتنی مدت تک کا حمل ضائع کروانا جائز ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-10-01


Your Comments