Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا ایک نکاح میں‌ ہوتے ہوئے عورت کا دوسرا نکاح‌ منعقد ہو جاتا ہے؟

کیا ایک نکاح میں‌ ہوتے ہوئے عورت کا دوسرا نکاح‌ منعقد ہو جاتا ہے؟

موضوع: محرمات نکاح

سوال پوچھنے والے کا نام: شہریار       مقام: کراچی

سوال نمبر 5065:
السلام علیکم! سلمیٰ اور اسلم کی شادی کو چار سال کا عرصہ ہو چکا ہے اور ان کا تین سال کا بچہ بھی ہے۔ اب سلمہ بغیر اسلم سے طلاق لیے زید سے کورٹ میرج کرلیتی ہے جس میں کوئی گواہ بھی موجود نہیں ہوتے۔ ان کی کورٹ میرج کا پتہ اسلم کو چل جاتا ہے اور وہ زید سے طلاق دینے کامطالبہ کر رہا ہے۔ معلوم یہ کرنا تھا کیا یہ نکاح ہوا تھا یا نہیں اور کیا زید کو طلاق دینی چاہیے۔

جواب:

اسلم کے نکاح میں ہوتے ہوئے سلمیٰ کسی دوسرے شخص سے شادی نہیں کر سکتی۔ قرآن مجید نے شوہر والی عورتوں کو محرماتِ نکاح قرار دیا ہے۔ اس لیے زید کے ساتھ سلمیٰ کے نکاح کا دعویٰ باطل ہے۔ اگر انہوں نے نکاح کیا بھی ہے تو ان کا عقد منعقد ہی نہیں ہوا۔ جب نکاح منعقد ہی نہیں ہوا تو زید کے طلاق دینے یا نہ دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسلم اپنی منکوحہ کی حیثیت سے سلمیٰ کو اپنے پاس رکھنے کا قانونی و شرعی حق رکھتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-10-06


Your Comments