Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا مخصوص دوکان کا سامان فروخت کروا کر کاریگر کا کمیشن لینا جائز ہے؟

کیا مخصوص دوکان کا سامان فروخت کروا کر کاریگر کا کمیشن لینا جائز ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد شاکر فلاحی       مقام: بھوپال، ہندوستان

سوال نمبر 5050:
ایک شخص مکینک ہے یعنی گاڑی سدھارتا ہے جب اسکے پاس کوئی گاہک گاڑی درست کروانے آتا ہے اور اس گاڑی میں کچھ نیا سامان ڈالنا پڑتا ہے تو مکینک گاہک سے ایک خاص دکان سے سامان خریدنے کو کہتا ہے جب وہ گاہک اس دکان سے سامان خرید لیتا ہے تو بعد میں وہ دکان دار گاہک بھیجنے پر مکینک کو کچھ روپئے بطور کمیشن کے دیتا ہے تو کیا مکینک کے لئے کمیشن لینا جائز ہے؟

جواب:

اس مسئلہ کی شرعاً دو صورتیں ہو سکتی ہیں:

  1. اگر مکینک گاہک کو پابند کرتا ہے کہ فلاں دوکان سے سامان خریدنا ہے‘ چاہے مارکیٹ ریٹ سے مہنگا ہی ملے، اس کے علاوہ کسی دوکان کا سامان قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ اس صورت میں دوکاندار کا زائد قیمت وصول کرنا اور مکینک کا کمیشن لینا جائز نہیں۔
  2. دوسری صورت یہ ہے کہ مکینک دوکاندار کی صرف تشہیر کرتا ہے اور گاہک اپنی مرضی سے اس دوکاندار سے سامان خریدتے ہیں۔ اس صورت میں مکینک کا کمیشن لینا جائز ہے کیونکہ اس نے اپنے کمیشن کی لالچ میں گاہک کو مخصوص دوکاندار سے سامان خریدنے پر مجبور نہیں کیا بلکہ صرف دوکاندار کی تشہیر کی ہے اور اسی کے عوض اسے کمیشن دیا گیا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-10-01


Your Comments