کیا مخصوص دوکان کا سامان فروخت کروا کر کاریگر کا کمیشن لینا جائز ہے؟

سوال نمبر:5050
ایک شخص مکینک ہے یعنی گاڑی سدھارتا ہے جب اسکے پاس کوئی گاہک گاڑی درست کروانے آتا ہے اور اس گاڑی میں کچھ نیا سامان ڈالنا پڑتا ہے تو مکینک گاہک سے ایک خاص دکان سے سامان خریدنے کو کہتا ہے جب وہ گاہک اس دکان سے سامان خرید لیتا ہے تو بعد میں وہ دکان دار گاہک بھیجنے پر مکینک کو کچھ روپئے بطور کمیشن کے دیتا ہے تو کیا مکینک کے لئے کمیشن لینا جائز ہے؟

  • سائل: محمد شاکر فلاحیمقام: بھوپال، ہندوستان
  • تاریخ اشاعت: 01 اکتوبر 2018ء

زمرہ: جدید فقہی مسائل

جواب:

اس مسئلہ کی شرعاً دو صورتیں ہو سکتی ہیں:

  1. اگر مکینک گاہک کو پابند کرتا ہے کہ فلاں دوکان سے سامان خریدنا ہے‘ چاہے مارکیٹ ریٹ سے مہنگا ہی ملے، اس کے علاوہ کسی دوکان کا سامان قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ اس صورت میں دوکاندار کا زائد قیمت وصول کرنا اور مکینک کا کمیشن لینا جائز نہیں۔
  2. دوسری صورت یہ ہے کہ مکینک دوکاندار کی صرف تشہیر کرتا ہے اور گاہک اپنی مرضی سے اس دوکاندار سے سامان خریدتے ہیں۔ اس صورت میں مکینک کا کمیشن لینا جائز ہے کیونکہ اس نے اپنے کمیشن کی لالچ میں گاہک کو مخصوص دوکاندار سے سامان خریدنے پر مجبور نہیں کیا بلکہ صرف دوکاندار کی تشہیر کی ہے اور اسی کے عوض اسے کمیشن دیا گیا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟