کیا حیض والی عورت مصحفِ قرآن چھوئے بغیر تلاوت کر سکتی ہے؟

سوال نمبر:5046
مفتی صاحب السلام علیکم! محترم جناب یہ بتا دیں کہ کیا عورت حیض کے دنوں میں قرآن پاک کو چھوئے بغیر تلاوت کر سکتی ہے؟ باقی وظائف وغیرہ بھی پڑھ سکتی ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی قرآن اور حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔

  • سائل: عبداللہمقام: ڈیرہ اسماعیل خان
  • تاریخ اشاعت: 15 ستمبر 2018ء

زمرہ: حیض   |  تلاوت‌ قرآن‌ مجید

جواب:

جنبی (جس پر غسل فرض ہو) مرد و عورت، اسی طرح حیض اور نفاس والی عورتوں کے لیے قرآن مجید کو براہ راست چھونا، تلاوت کی نیت سے زبانی یا دیکھ کر پڑھنا ممنوع ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

لَا تَقْرَاَ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ.

 حائضہ اور جنبی قرآن پاک سے کچھ نہ پڑھیں۔

ترمذي، السنن، 1: 236، رقم: 131، دار احیاء التراث العربي، بیروت

ایامِ حیض میں خواتین کے لیے ممنوعہ امور کی وضاحت علامہ محمد بن علی حصفکی رحمۃ اللہ علیہ نے ان الفاظ میں کی ہے:

حيض يمنع صلاة و صوما و تقضيه و دخول مسجد و الطواف و قربان ما تحت اِزار و قرأة قرآن و مسه الا بغلافه. و کذا ولا بأس بقرأة أدعية و مسها و حملها و ذکر الله تعالٰی، و تسبيح و أکل و شرب بعد مضمضة و غسل يد. ولا يکره مس قرآن بکم.

دورانِ حیض نماز، روزہ، روزہ کی قضاء، مسجد میں داخل ہونا، طواف کعبہ، جنسی قربت، تلاوتِ قرآن اور غلاف کے بغیر قرآنِ مجید کو چھونا ممنوع ہے۔ البتہ کلی کرنے اور ہاتھ دھونے کے بعد دعائیں پڑھنے، انہیں چھونے، ان کو اٹھانے، اللہ کا ذکر کرنے، تسبیح پڑھنے اور کھانے پینے کی ممانعت نہیں ہے۔ آستین کے ساتھ قرآن چھونا بھی منع نہیں ہے۔

حصفکي، الدرالمختار، 1: 290تا 294، دار الفکر، بيروت

خاتمۃ المحققین ابنِ عابدین شامی نے بھی مخصوص ایام میں دعا کی نیت سے قرآنی آیات پڑھنے اور معلمات کے لیے ہجے کر کے پڑھانے کو جائز قرار دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

لأنه جوز للحائض المعلمة تعليمه کلمة کلمة کما قدمناه، کالقرآن التورة و الانجيل و الزبور کما قدمه المصنف فاو قرأت الفاتحة علی وجه الدعاء أو شيئا من الآيات التی فيها الدعاء و لم ترد القرأة.

حیض (و نفاس) والی استانی کے لیے ایک ایک لفظ کر کے تعلیم دینے کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے۔ قرآن، تورات، انجیل، زبور (کے پڑھنے) سے (بھی منع کیا جائے گا) جیسے مصنف نے ذکر کیا ہے۔ سو اگر کسی نے سورہ فاتحہ بطور دعا پڑھی یا قرآن کی دیگر آیاتِ دعائیہ (پڑھیں) اور ارادہ قرات کا نہ تھا تو اس میں حرج نہیں۔

ابن عابدين شامي، ردالحتار، 1: 293، دار الفکر للطباعة والنشر، بيروت

مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ خواتین حیض کے ایام میں تلاوت کی نیت سے قرآنِ مجید نہیں پڑھ سکتیں۔ اگر کوئی معلمہ ہے تو ہجے (spelling) کروا سکتی ہے۔ مثلاً عَلَّمَ الْقُرْاٰن دو الفاظ ہیں‘ عَلَّمَ کو الگ ادا کرے گی اور الْقُرْاٰن کو الگ۔ ملاکر نہیں پڑھ سکتی۔

حیض والی عورت ایسے کپڑے یا کسی اور چیز سے مصحفِ قرآن کو چھو سکتی ہے جو اس سے متصل (جُڑی ہوئی) نہ ہو‘ مثلاً غلاف، تھیلا، کوئی کپڑا یا مصحف کی اکھڑی ہوئی جلد وغیرہ۔ اسی طرح حیض والی عورت احادیث میں مذکور مسنون دعائیں، تلاوت کی نیت کیے بغیر دعائیہ قرآنی آیات، کلماتِ طیبہ، تسبیحات، استغفار وظائف اور درود و سلام بھی بلاکراہت پڑھ سکتی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟