Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا نئے قمری سال کی مبارکباد دینا جائز ہے؟

کیا نئے قمری سال کی مبارکباد دینا جائز ہے؟

موضوع: متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: رشیداحمد       مقام: فیصل آباد

سوال نمبر 5043:
کیا نیا اسلامی سال منانا جائز ہے؟

جواب:

نئے ہجری سال کے آغاز پر ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہوئے خیر و برکت کی دعا دینے اور نیک تمناؤں کا اظہار کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہيں، خاص طور پر جب اس کا مقصد محبت و الفت کا تعلق قائم کرنا اور خوشدلی کے ساتھ پیش آنا ہو۔

نئے سال کی مبارکباد دینا یا نئے سال کے آغاز پر دعائیں دینا نہ تو شرعی حکم ہے‘ نا اس کی قطعی ممانعت ہے‘ یہ مباح عمل ہے۔ کتبِ حدیث میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ معمول بیان ہوا ہے کہ نیا مہینہ یا نیا سال شروع ہونے پر وہ اِن الفاظ میں دعا کرتے:

اللّٰهُمَّ أدْخِلْهُ عَلَیْنَا بِالأمْنِ وَ الإیْمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالإسْلَامِ، وَرِضْوَانٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ وَجِوَازٍ مِّنَ الشَّیْطَانِ.

اے اللہ! اس (نئے مہینے یا نئے سال) کو ہمارے اوپر امن و ایمان، سلامتی و اسلام اور اپنی رضامندی، نیز شیطان سے پناہ کے ساتھ داخل فرما۔

المعجم الاوسط للطبرانی 6: 221 حدیث: 6241 دارالحرمین قاہره

اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایک مباح عمل سمجھتے ہوئے نئے سال کے آغاز پر مبارکباد دینا، دعا دینا، نیک تمناؤں اور جذبات کا اظہار کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-09-15


Your Comments