Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - تین طلاق کے بعد رجوع کا کیا حکم ہے؟

تین طلاق کے بعد رجوع کا کیا حکم ہے؟

موضوع: طلاق مغلظہ(ثلاثہ)

سوال پوچھنے والے کا نام: عرفان سلیم       مقام: ٹیکسلا

سوال نمبر 5004:
السلام علیکم! زید نے ہندہ کی رضامندی سے اسے تحریراً تین طلاق دیں، اس وقت ہندہ حاملہ تھی‘ کیا طلاق واقع ہوئی؟ بچہ پیدا ہونے کے بعد دونوں‌ نے وکیل کے مشورے سے رجوع کر لیا‘ کیا یہ رجوع قابلِ قبول ہے؟

جواب:

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًاO

اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اگر تمہیں شک ہو (کہ اُن کی عدّت کیا ہوگی) تو اُن کی عدّت تین مہینے ہے اور وہ عورتیں جنہیں (ابھی) حیض نہیں آیا (ان کی بھی یہی عدّت ہے)، اور حاملہ عورتیں (تو) اُن کی عدّت اُن کا وضعِ حمل ہے، اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے (تو) وہ اس کے کام میں آسانی فرما دیتا ہے۔

الطَّلاَق، 65: 4

حضرت عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ انہوں نے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے ایک طلاق سے خوش کر دو جبکہ وہ حاملہ تھیں تو انہوں نے ایک طلاق دے دی، پھر نماز کو چلے گئے، جب وہ واپس آئے تو بچہ پیدا ہو چکا تھا۔ انہوں نے فرمایا اللہ اس کا ناس کرے اس نے میرے ساتھ مکر کیا، پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

سَبَقَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ، اخْطُبْهَا إِلَى نَفْسِهَا.

کتاب اللہ کے مطابق اس کی عدت پوری ہو گئی، اب پیغام (نکاح) دوبارہ بھیج دو۔

ابن ماجه، السنن، كتاب الطلاق، باب المطلقة الحامل إذا وضعت ذا بطنها بانت، 1: 653، رقم: 2026، بيروت: دار الفكر

درج بالا آیت و روایت سے معلوم ہوا کہ دورانِ حمل بیوی کو دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ حاملہ مطلقہ کی عدت وضع حمل (بچے کی پیدائش) ہے۔

اس لیے دورانِ حمل اپنی بیوی کو بقائمِ ہوش و حواس زید کی دی ہوئی تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔ تین طلاق دینے کے بعد زید رجوع کا حق کھو چکا ہے‘ اس لیے ان کا رجوع قابلِ قبول نہیں۔ زید اور اس کی بیوی ایک دوسرے کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتے‘ سوائے اس کے کہ زید کی مطلقہ بیوی کسی دوسرے مرد سے شادی کرے اور وہاں سے بیوہ یا مطلقہ ہو جائے‘ یا خلع لے یا پھر بذریعہ عدالت تنسیخِ نکاح ہو تو عدت مکمل کر کے زید سے نکاح کر سکتی ہے۔ مگر یہ دوسرے مرد سے شادی اور نکاح کے ختم ہونے کا سارا عمل منصوبہ بند (Planned/Arranged) نہیں بلکہ اتفاقی (Fortuitous) ہونا چاہیے۔ اگر پہلے سے منصوبہ بندی (Planning) کر کے ایسا کیا گیا تو دوسرے شخص سے زید کی بیوی کا نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوگا اور سارا عمل حرام در حرام کے زمرے میں آئے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-09-06


Your Comments