Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا مشروط طلاق میں شرط واپس لی جاسکتی ہے؟

کیا مشروط طلاق میں شرط واپس لی جاسکتی ہے؟

موضوع: تعلیق طلاق

سوال پوچھنے والے کا نام: شفیع اللہ       مقام: کولکتہ

سوال نمبر 4966:
السلام علیکم مفتی صاحب! زید نے اپنی بیوی سے کہا کہ ’اگر تم اپنے باپ کے گھر میں قدم رکھا تو تم کو تین طلاق ہے‘ کیا یہ طلاق واپس لی جاسکتی ہے؟ طلاق کو واپس لینے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب:

جب شوہر طلاق کو کسی شرط کے ساتھ مشروط کر دے تو شرط واپس نہیں لے سکتا۔ فقہائے کرام کے ہاں یہی اصول ہے کہ:

وَإِذَا أَضَافَهُ إِلَی شَرْطٍ وَقَعَ عَقِیْبَ الشَّرْطِ.

جب خاوند نے کسی شرط کے ساتھ طلاق کو مشروط کر دیا تو شرط پائے جانے پر طلاق واقع ہو جائے گی۔

  1. مرغیناني، الهدایة، 1: 251، المکتبة الاِسلامیة
  2. الشیخ نظام وجماعة من علماء الهند، الفتاوی الهندیة، 1: 420، دار الفکر

اگر زید نے کسی مخصوص وقت کے لیے یہ شرط لگائی تھی تو مخصوص وقت گزرنے پر شرط غیرمؤثر ہو جائے گی۔ شرط غیرمؤثر ہونے پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ لیکن اگر زید نے ہمیشہ کے لیے شرط عائد کی ہے تو شرط پوری ہونے پر یعنی باپ کے گھر میں قدم رکھنے پر بیوی کو تین طلاق واقع ہو جائیں گی، کیونکہ شوہر نے تین کا عدد بول کر طلاق کو تین کے ساتھ خاص کر دیا ہے اور اس سے ایک یا دو طلاق مراد لینا ممکن نہیں۔ تین طلاق کو طلاقِ مُغَلَّظہ (absolute) کہا جاتا ہے جس سے بینونت (جدائی) ہو جاتی ہے اور شوہر کو رجوع یا تجدیدِ نکاح کا حق نہیں‌ رہتا۔ البتہ اگر عورت اِس طلاق کی عدت (اگر حاملہ ہے تو وضع حمل، اگر حیض والی ہے تو تین حیض، اگر کم عمری‘ بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے حیض نہیں آتا تو تین مہینے) گزار کر کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور وہاں سے بیوہ ہو جائے یا خلع لے یا مطلقہ ہو جائے یا ان کا تنسیخِ نکاح‌ ہو جائے تو عدت کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-08-09


Your Comments