Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اگر لڑکی سے جبراً نکاح نامے پر دستخط لیے گئے تو نکاح کا کیا حکم ہے؟

اگر لڑکی سے جبراً نکاح نامے پر دستخط لیے گئے تو نکاح کا کیا حکم ہے؟

موضوع: نکاح   |  شرائط نکاح

سوال پوچھنے والے کا نام: فہد علی       مقام: کراچی

سوال نمبر 4953:
ایک لڑکی سے جبراً نکاح نامے پر دستخط لیے گئے تو کیا یہ نکاح منعقد ہوگیا؟ اور اب اس نکاح کو ختم کرنے کا کیا طریقہ کار ہو گا؟ جبکہ لڑکا طلاق دینا نہیں‌ چاہتا اور لڑکی اور اس کے ولی اس نکاح سے راضی نہیں‌ ہیں۔

جواب:

اگر لڑکی نے یہ نکاح قبول ہی نہیں کیا اور جبراً اس سے دستخط لیے گئے تو یہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا۔ اس صورت میں کسی طلاق و خلع کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ کسی فریق کے ساتھ جبر و اکراہ کی صورت میں نکاح قائم ہی نہیں ہوتا۔

دوسری صورت یہ ہے کہ نکاح میں اگرچہ لڑکی کی پسند شامل نہیں تھی تاہم اس نے ایجاب و قبول کے وقت انکار نہیں کیا نہ ہی اس پر ایسا جبر کیا گیا کہ جس سے کسی نقصان کا اندیشہ ہو‘ تو نکاح قائم ہوچکا ہے۔ اس صورت میں لڑکی یا تو شوہر کو طلاق کے لیے راضی کرے یا عدالت میں تنسیخِ نکاح کی درخواست دائر کرے اور ان وجوہات کو ثابت کرے جن کی بنا پر وہ علیحدگی چاہتی ہے۔ پھر عدالت ان کے درمیان فیصلہ کر دے گی۔ مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

اگر لڑکی نکاح کو قبول نہ کرے تو کیا نکاح منعقد ہو جائے گا؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-07-30


Your Comments