Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - سرمایہ کاری پر ماہوار متعین رقم دینے والی کمپنی میں سرمایہ لگانا کیسا ہے؟

سرمایہ کاری پر ماہوار متعین رقم دینے والی کمپنی میں سرمایہ لگانا کیسا ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  سود

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد رحمان       مقام: پاکستان

سوال نمبر 4951:
السلام علیکم! سر ایک ایڈورٹائزمنٹ‌ کی کمپنی ہے۔ یہ ٹی وی چینلز سے مشہوری کے لیے ٹائم خریدتی ہے اپنی کسٹمر کمپنیز کو اپنی پروڈکٹس کی کمرشل کرنے کے لیے فروخت کرتی ہے۔ یہ ایڈورٹائزمنٹ‌ کی کمپنی لوگوں کو حصہ داری کی دعوت دیتی ہے۔ حصہ داری کے مختلف پیکجز ہیں جن میں‌ 150، 300 اور 600 ڈالرز کے پیکجز عام ہیں۔ 150 ڈالر انوسٹ کرنے پر کمپنی 3000 روپے فی مہینہ دیتی ہے، جبکہ 300 ڈالرز پر 6000 روپے ماہوار دیئے جاتے ہیں۔ اگر اپنے تعلق سے کسی کو کمپنی میں‌ سرمایہ کاری کے لیے راضی کیا جائے تو کمپنی اس کی انوسٹ منٹ‌ کا 10 فیصد دیتی ہے۔ کیا ایسی کمپنی کے ساتھ کام کرنا جائز ہے؟

جواب:

اگر مذکورہ کمپنی سرمایہ کاری سے ہونے والے نفع و نقصان میں اپنے شراکت داروں کو شامل کرتی ہے اور طے شدہ شرح کے مطابق حصہ داروں کو نفع یا نقصان میں حصہ دیتی ہے تو اس میں سرمایہ کاری جائز ہے۔ لیکن سرمایہ کاری پر متعین رقم ماہوار لینے کا طریقہ کار جائز نہیں۔ یہ واضح طور پر سودی کاروبار ہے جس سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ، وَقَالَ: هُمْ سَوَاءٌ.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے پر، سود کھلانے والے پر، سود لکھنے والے اور سود کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اور فرمایا یہ سب برابر ہیں۔

مسلم، الصحيح، كتاب المساقاة، باب لعن آكل الربا ومؤكله، 3: 1219، رقم:1598، بيروت: دار إحياء التراث

اس لیے سودی کاروبار کرنے والی کمپنی میں سرمایہ کاری کرنا یا لوگوں کو سرمایہ کاری کی ترغیب دینا حرام ہے۔ اس سے بچیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-07-31


Your Comments