Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا دو بیویوں کو ایک ہی کمرے میں ایک ساتھ رکھا جاسکتا ہے؟

کیا دو بیویوں کو ایک ہی کمرے میں ایک ساتھ رکھا جاسکتا ہے؟

موضوع: معاشرتی آداب

سوال پوچھنے والے کا نام: عزیزاللہ چغرزئی       مقام: کراچی

سوال نمبر 4940:
السلام علیکم مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ کیا دو بیویوں کو ایک ہی کمرے میں ایک ساتھ رکھا جا سکتا ہے؟

جواب:

اسلام نے انسانوں کو اخلاق و کردار کے قیمتی جواہر سے نوازا ہے اور زندگی گزارنے کے اصول و آداب سے سرفراز کیا ہے۔ کن چیزوں کو اختیار کرنے سے ایک صالح اور پاکیزہ معاشرہ کی تعمیر ہوتی ہے اور کن چیزوں کو اپنانے کی وجہ سے معاشرہ داغدار ہوتا ہے اس کو بھی اسلام نے واضح فرما دیا ہے۔ اسلام شرم و حیاء کو ایک مسلمان کی زندگی کا بنیادی وصف قرار دیتا ہے۔ اسی لیے اسلامی معاشرے میں ’شرم و حیاء‘ کا بنیادی کردار ہے۔ حیاء انسان کے نیک و پاکباز اور سعادت مند ہونے کی علامت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:

إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا، وَخُلُقُ الْإِسْلَامِ الْحَيَاءُ.

ہر دین کی (ایک خاص) عادت ہوتی ہے اور اسلام کی عادت شرم و حیاء ہے۔

ابن ماجه، السنن، كتاب الزهد، باب الحياء، 2: 1399، رقم: 4181، بيروت: دار الفكر

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

إنَّ الْحَيَاءَ وَالإِيمَانَ قُرِنَا جَمِيعًا ، فَإِذَا رُفِعَ أَحَدُهُمَا رُفِعَ الآخَرُ.

حیاء اور ایمان دونوں ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک اٹھ جائے تو دوسرا بھی خود بخود اٹھ جاتا ہے۔

ابن أبي شيبة، المصنف، 5: 213، رقم: 25350، الرياض: مكتبة الرشد

اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً، وَالحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ.

ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں اور حیاء بھی ایمان کی ایک (اہم) شاخ ہے۔

  1. بخاري، الصحيح، كتاب الإيمان، باب أمور الإيمان، 1: 12، رقم: 9، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة
  2. مسلم، الصحيح، كتاب الإيمان، باب بيان عدد شعب الإيمان وأفضلها وأدناها وفضيلة الحياء وكونه من الإيمان، 1: 63، رقم: 35، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي
  3. أحمد بن حنبل، المسند، 2: 442، رقم: 9708، مصر: مؤسسة قرطبة

اس لیے شرم و حیاء کا تقاضا ہے کہ دو بیویوں کو ایک کمرے میں اکٹھا نہ رکھا جائے۔ حضرت حسن رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:

كَانُوا يَكْرَهُونَ الْوَجْسَ، وَهُوَ أَنْ يَطَأَ إِحْدَاهُمَا وَالْأُخْرَى تَنْظُرُ أَوْ تَسْمَعُ.

اگر ایک آدمی دوبیویاں ایک کمرے میں ہوں تو ایک کے سامنے یا اس کے سنتے ہوئے دوسری سے جماع کرنا مکروہ ہے۔

ابن أبي شيبة، المصنف، 4: 37، رقم: 17549

اس لیے دو بیوں کو ایک کمرے میں‌ ایک ساتھ رکھنے سے اجتناب کریں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-07-23


Your Comments